پٹنہ 14اپریل: بہار کے اگلے وزیر اعلیٰ سمراٹ چودھری ہوں گے۔ اس بات پر اُس وقت مہر لگ گئی، جب بی جے پی قانون ساز پارٹی کی میٹنگ میں انہیں لیڈر منتخب کر لیا گیا۔ اس میٹنگ میں وجے سنہا نے ان کے نام کا اعلان کیا۔ میٹنگ میں ریاستی صدر سنجے سراوگی اور بی جے پی کے مبصر شیوراج سنگھ چوہان موجود تھے۔ سمراٹ چودھری کے نام کی حمایت دلیپ جیسوال اور منگل پانڈے نے بھی کی۔ بعد ازاں سمراٹ چودھری نے بہار کے گورنر سید عطا حسنین سے ملاقات کر ریاست میں نئی حکومت کی تشکیل کا دعویٰ پیش کر دیا۔ گورنر نے ان کا یہ دعویٰ قبول کر لیا ہے اور 15 اپریل کی صبح 11 بجے حلف برداری تقریب منعقد کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس تقریب میں سمراٹ چودھری بہار کے اگلے وزیر اعلیٰ کی شکل میں حلف لیں گے اور ان کے ساتھ بہار کی نئی کابینہ کے کچھ اراکین کی بھی حلف برداری ہوگی۔
بی جے پی قانون ساز پارٹی کا لیڈر منتخب کیے جانے کے بعد سمراٹ چودھری کا پہلا رد عمل بھی سامنے آ گیا ہے۔ انھوں نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر جاری ایک پوسٹ میں لکھا ہے کہ ’’بی جے پی کی مرکزی قیادت کے ذریعہ مجھ پر بھروسہ ظاہر کرتے ہوئے بہار بی جے پی قانون ساز پارٹی کے لیڈر کی ذمہ داری سونپی گئی، اس کے لیے میں دل سے شکریہ ادا کرتا ہوں۔‘‘ انھوں نے مزید کہا کہ ’’یہ میرے لیے صرف ایک عہدہ نہیں بلکہ بہار کی عوام کی خدمت، ان کے اعتماد اور خوابوں کو شرمندۂ تعبیر کرنے کا ایک بہترین موقع ہے۔ میں پوری ایمانداری کے ساتھ عوام کی امیدوں پر کھرا اترنے کا عزم لیتا ہوں۔‘‘ واضح رہے کہ نتیش کمار نے منگل (14 اپریل) کو گورنر ہاؤس پہنچ کر اپنا استعفیٰ سونپ دیا تھا۔ وہ سمراٹ چودھری اور وجے چودھری کے ساتھ ایک ہی گاڑی سے راج بھون پہنچے تھے۔ نتیش کمار نے 20 نومبر 2025 کو وزیر اعلیٰ عہدہ کا حلف لیا تھا۔ آج 14 اپریل کو استعفیٰ دینے کے بعد یہ مدت کار 145 دنوں کی ہوئی، یہ دوسری بار ہے جب نتیش کمار انتہائی کم مدت کے لیے وزیر اعلیٰ کے عہدہ پر فائز رہے۔
اس سے قبل 2000 میں انہوں نے 3 مارچ کو وزیر اعلیٰ کے عہدہ کا حلف لیا تھا، لیکن 10 مارچ کو ہی انہیں استعفیٰ دینا پڑا تھا۔