پڈوچیری6اپریل:لوک سبھا میں حزب اختلاف کے قائد اور کانگریس رہنما راہل گاندھی نے پڈوچیری میں کانگریس اتحاد کے حق میں انتخابی مہم چلاتے ہوئے حکمراں جماعت اے آئی این آر سی-بی جے پی اتحاد کو ہدفت تنقید بنایا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پڈوچیری کو مکمل ریاست کا درجہ دلانے کے لیے کانگریس پرعزم ہے۔ عظیم الشان ریلی کو خطاب کرتے ہوئے راہل گاندھی نے کہا کہ ’’ریاستی حکومت مقامی لوگوں کی آواز نہیں ہے، بلکہ اصل میں دہلی سے مسلط کی گئی ہے۔ بی جے پی ریموٹ کنٹرول سے ریاست کو چلا رہی ہے اور لیفٹیننٹ گورنر لوگوں کی مرضی کو نظر انداز کرنے کا ایک ذریعہ بن گئے ہیں۔‘‘
راہل گاندھی نے خطاب کے دوران مزید کہا کہ ’’ریاست کے علاقائی لیڈران کو کنارے کیا جا رہا ہے اور بلدیاتی انتخاب نہیں ہونے دیے جا رہے ہیں۔ کانگریس نہیں چاہتی کہ پڈوچیری پر راجہ کی طرح لیفٹیننٹ کی حکومت ہو، پڈوچیری کا اقتدار مقامی لوگوں کے ہاتھ میں ہونا چاہیے۔‘‘ ساتھ ہی انہوں نے پڈوچیری کے عوام سے وعدہ کیا کہ ’’کانگریس کے اقتدار میں آنے کے 6 ماہ کے اندر بلدیاتی انتخاب کرائے جائیں گے۔‘‘ پڈوچیری کے صنعتی اور ٹیکسٹائل شعبوں کی بدحالی کا ذکر کرتے ہوئے راہل گاندھی نے کہا کہ سینکڑوں کارخانے بند ہو چکے ہیں۔ بی جے پی پڈوچیری کو صنعتکار اڈانی کے حوالے کرنا چاہتی ہے۔
اسٹریٹجک طور پر اہم ’کرائیکل پورٹ‘ پہلے ہی انہیں فروخت کیا جا چکا ہے اور اب اڈانی الیکٹرسٹی پڈوچیر لمیٹڈ کے ذریعہ پڈوچیری کا بجلی کا نظام ان کے حوالے کرنے کی تیاری کی جا رہی ہے۔

کانگریس رکن پالیمنٹ نے امن و امان کی بگڑتی ہوئی صورتحال اور بدعنوانی پر سنگین سوال اٹھائے۔ انہوں نے کہا کہ ’’ریاست میں ہر ٹھیکے پر 30 فیصد کمیشن لیا جا رہا ہے اور حکومت وصولی ایجنٹ کی طرح کام کر رہی ہے۔‘‘ راہل گاندھی نے کمیشن لے کر شراب کے لائسنس فروخت کیے جانے، اسکول اور عبادت گاہوں کے پاس شراب کی دکانیں کھولنے، مندروں کی زمینوں پر قبضہ کرنے اور اسکولی طلبہ کے درمیان بڑھتی ہوئی نشے کی لت جیسے سنگین مسائل اٹھا کر حکومت کو گھیرا۔ ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ پڈوچیری آج نقلی ادویات کا ایک بڑا مرکز بن گیا ہے، جہاں بڑے پیمانے نقلی دوائیں بنائی جا رہی ہیں جنہیں ملک بھر میں بھیجا جا رہا ہے۔ راہل گاندھی کے مطابق یہ محض بدعنوانی ہی نہیں بلکہ یہ ایسی بدعنوانی ہے جس میں قتل بھی شامل ہے۔