نئی دہلی30مئی: سنٹرل بورڈ آف سیکنڈری ایجوکیشن (سی بی ایس ای) کے آن اسکرین مارکنگ (او ایس ایم) میں ہونے والی گڑبڑی کے خلاف ہفتہ کے روز این ایس یو آئی نے پٹپڑ گنج میں سی بی ایس ای ہیڈکوارٹر پر شدید احتجاج کیا۔ این ایس یو آئی کے قومی صدر ونود جاکھڑ کی قیادت میں طلبا اور کارکنان کی بڑی تعداد نے اس احتجاج میں حصہ لیا۔ مظاہرین نے الزام لگایا کہ غلط جانچ کے نظام کی وجہ سے ہزاروں طلباء نے غلط نمبر حاصل کیے ہیں جس سے ان کا تعلیمی مستقبل متاثر ہو رہا ہے۔ احتجاج کے دوران طلباء نے سی بی ایس ای کے خلاف نعرے لگائے اور جانچ کے عمل میں شفافیت اور جوابدہی کا مطالبہ کیا۔ این ایس یو آئی کے کارکنان کا کہنا ہے کہ امتحان میں اچھی کارکردگی کا مظاہرہ کرنے کے باوجود طلباء کو توقع سے کافی کم نمبر دیے گئے ہیں، جس سے طلباء اور والدین میں بے چینی اور تذبذب کا ماحول پیدا ہو گیا ہے۔ احتجاج کرنے والے این ایس یو آئی کارکنان نے سی بی ایس ای کے سامنے کئی مطالبات رکھے۔ ان میں ناقص اور آن اسکرین مارکنگ (او ایس ایم) کے سسٹم کا فوری خاتمہ، جانچ کی بے ضابطگیوں کی ذمہ داری کا تعین، ایک منصفانہ اور طالب علم دوستانہ انداز میں دوبارہ جانچ کے عمل کو نافذ کرنا، اور طلباء کے تعلیمی مستقبل و ذہنی صحت کی حفاظت کو یقینی بنانا شامل ہے۔