نئی دہلی 21جون: کانگریس کے راجیہ سبھا رکن جے رام رمیش نے سپریم کورٹ کی طرف سے حال ہی میں ’فٹ پاتھ پر چلنے کے حق‘ کو بنیادی حق قرار دیے جانے کے فیصلے کی مثال دیتے ہوئے یہ دلیل دی ہے کہ اب ووٹنگ کے حق کو بھی یہ درجہ ملنا چاہیے۔ انہوں نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر لکھا کہ ’’جمعہ 19 جون 2026 کو سپریم کورٹ کے 2 ججوں پر مشتمل بنچ نے فٹ پاتھ پر چلنے کے حق کو آئین ہند کے تحت ایک بنیادی حق قرار دیا ہے۔‘‘ اپنی ’ایکس‘ پوسٹ میں جے رام رمیش مزید لکھتے ہیں کہ ’’آئین ساز اسمبلی نے سردار پٹیل کی صدارت میں بنیادی حقوق، اقلیتوں، اور قبائلی و خارج شدہ علاقوں پر ایک مشاورتی کمیٹی تشکیل دی تھی۔ 21-22 اپریل 1947 کو ہوئے اس اجلاس میں ووٹنگ کے حق کو بنیادی حق بنانے کے سوال پر بھرپور بحث ہوئی۔‘‘ کانگریس لیڈر کے مطابق ڈاکٹر امبیڈکر اور جگجیون رام نے اس کے حق میں زوردار دلائل پیش کیے۔ دوسری طرف سردار پٹیل، سی راجگوپالاچاری اور کچھ دیگر اراکین کا خیال تھا کہ اگر ووٹنگ کے حق کو بنیادی حق بنا دیا گیا تو ریاستیں ہندوستانی یونین میں شامل ہونے سے ہچکچا سکتی ہیں۔ ان کا ماننا تھا کہ آئین میں بالغ رائے دہی کا انتظام کر دینا ہی کافی ہوگا۔ خود سردار پٹیل کی یہ رائے تھی کہ بالغ رائے دہی اپنے آپ میں ایک بنیادی حق ہے۔ یہی آئین کے دفعہ 326 کا پس منظر ہے، جو بالغ رائے دہی کی بنیاد پر انتخابات کرانے کا انتظام کرتا ہے۔