کولکاتا9اگست: مغربی بنگال کی سابق وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی اتوار کو کانچرا پاڑا پہنچی تھیں۔ وہ پولیس کسٹڈی میں اپنی جان گنوانے والے ٹی ایم سی کارکن کے اہل خانہ سے ملنے گئی تھیں۔ اس دوران انہیں شدید احتجاج کا سامنا کرنا پڑا، ان کی گاڑی کو چاروں طرف سے گھیر کر مظاہرہ کیا گیا اور ان کے خلاف نعرے لگائے گئے۔ اتنا ہی نہیں ان کی کار پر کیچڑ اور جوتے تک پھینکے گئے۔ ممتا بنرجی نے ریاستی حکومت کو سخت تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ ’’بی جے پی نے غنڈوں کے ذریعہ یہ کام کیا ہے۔ سیکورٹی بھول جاؤ۔ پولیس غنڈوں کو بچا رہی ہے۔ بنگال غنڈوں کے ہاتھ میں آ گیا ہے۔ ہم کیس کریں گے۔‘‘
ہندی نیوز پورٹل ’ٹی وی 9 بھارت‘ ورش پر شائع ایک رپورٹ کے مطابق ممتا بنرجی نے الزام عائد کیا کہ ان کی کار پر بڑی اینٹ پھینکی گئی۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ ’’میرا سر پھٹ جاتا، میں یہیں مر جاتی۔ پولیس بی جے پی کو بچا رہی ہے۔‘‘ واضح رہے کہ ممتا بنرجی کے ساتھ رکن پارلیمنٹ کلیان بنرجی اور راجیہ سبھا رکن ڈولا سین بھی موجود تھے۔ احتجاجی مظاہرے کے بعد انہوں نے بھی انتظامیہ کے خلاف اپنے شدید غصے کا اظہار کیا۔ کلیان بنرجی نے الزام عائد کیا کہ ’’سوویندو ادھیکاری پولیس کے ساتھ مل کر راج کر رہے ہیں اور وہ مافیا کے ذریعے کام کروا رہے ہیں۔‘‘ قابل ذکر ہے کہ ہالیشہر تھانے کی پولیس نے کانچرا پاڑا میونسپلٹی کی استعفیٰ دے چکی ترنمول کونسلر کے شوہر برجو کیٹ کو زبردستی وصولی سمیت کئی الزامات کے تحت گرفتار کیا تھا۔ اسے جمعہ کو کورٹ میں بھی پیش کیا گیا تھا۔
جج نے اس کی 5 دن کی پولیس کسٹڈی کا حکم دیا تھا لیکن ہفتہ کو پتہ چلا کہ کانچرا پاڑا کے وارڈ 23 کی سابق کونسلر جینی شرما کیٹ کے شوہر اور میونسپلٹی کے ملازم کی پولیس کسٹڈی میں موت ہو گئی۔ جینی نے الزام عائد کیا کہ لاک اپ کے اندر پولیس کی پٹائی سے ان کے شوہر کی موت ہوئی۔ اس واقعے پر پولیس کی طرف سے کوئی ردعمل نہیں آیا۔ اتوار کو ممتا بنرجی نے برجو کیٹ کے خاندان سے ملاقات کی اور کہا کہ ‘‘اس ریاست میں اب لا اینڈ آرڈر نام کی کوئی چیز نہیں رہ گئی ہے۔‘‘