نئی دہلی 10اپریل: کانگریس کے صدر ملکارجن کھڑگے نے جمعہ کے روز کانگریس مجلس عاملہ (سی ڈبلیو سی) کی میٹنگ میں مرکز کی مودی حکومت کو کئی معاملے میں ہدف بنایا۔ انھوں نے کہا کہ ’’آپ سبھی جانتے ہیں مودی حکومت طویل خاموشی کے بعد اچانک خواتین ریزرویشن کے معاملے پر سرگرم ہو گئی ہے۔ اسی سلسلے میں لوک سبھا اور ریاستی اسمبلیوں میں خواتین کے لیے 33 فیصد ریزرویشن کے مسئلہ پر 16 سے 18 اپریل کے درمیان پارلیمنٹ کا اجلاس ہونے جا رہا ہے۔‘‘ انہوں نے مزید کہا کہ ’’اس بارے میں اب تک حکومت کی طرف سے ہمیں کوئی باضابطہ تجویز نہیں ملی ہے۔ وزیر اعظم کے لکھے گئے مضمون کو پڑھ کر ہمیں کچھ باتوں کا اندازہ ہوا ہے۔
اس اجلاس میں حکومت ایک اہم آئینی ترمیمی بل پاس کرانا چاہتی ہے تاکہ آنے والے اسمبلی انتخابات میں اس کا کریڈٹ اور فائدہ حاصل کیا جا سکے۔‘‘ کھڑگے کا کہنا ہے کہ اب تک ملنے والی معلومات کے مطابق حکومت خواتین ریزرویشن کو 2029 کے انتخابات سے نافذ کرنا چاہتی ہے۔ اس کے علاوہ وہ لوک سبھا اور اسمبلیوں کی موجودہ نشستوں میں 50 فیصد اضافہ کرنے کی بھی خواہش مند ہے۔ لوک سبھا کی نشستوں کو 543 سے بڑھا کر 816 کرنے کا منصوبہ ہے اور اسمبلیوں میں بھی اسی تناسب سے اضافہ ہوگا۔ اس حد بندی (ڈیلیمیٹیشن) تجویز کے سنگین نتائج ہوں گے، اس لیے اس پر گہرے غور و فکر کی ضرورت ہے۔









