لکھنو23ستمبر:بہوجن سماج پارٹی (بی ایس پی) کی قومی مجلس عاملہ کی میٹنگ میں پارٹی کی سربراہ مایاوتی نے ایک انتہائی اہم فیصلہ لیا ہے۔ مایاوتی نے اپنے چھوٹے بھتیجے ایشان آنند کو پارٹی کا نیشنل کوآرڈینیٹر مقرر کیا ہے۔ بدھ کے روز لکھنؤ میں بی ایس پی کا قومی اجلاس منعقد ہوا، جس میں تنظیم سے متعلق جو اہم فیصلے لیے گئے، ان میں ایشان آنند کی نئی ذمہ داری پر بھی مہر ثبت کی گئی۔ یہ میٹنگ پارٹی کی دوسری قومی سطح کی میٹنگ ہے جو 20 دنوں کے اندر طلب کی گئی ہے۔ ایشان آنند کو پارٹی میں ترقی دینے کا فیصلہ ایسے وقت میں ہوا ہے، جب مایاوتی نے اپنے بڑے بھتیجے آکاش آنند کو پارٹی سے باہر کر دیا ہے۔ اس سے قبل 3 ستمبر کو آکاش آنند کو بی ایس پی کے نیشنل کوآرڈینیٹر کے عہدہ سے ہٹا دیا گیا تھا اور بعد میں انہیں پارٹی سے بھی نکال دیا گیا تھا۔ اس کے بعد مایاوتی نے اپنے فیصلوں میں کئی بار تبدیلی کی، جس سے سیاسی سطح پر چہ می گوئیاں شروع ہو گئیں۔ کبھی انھوں نے ایشان آنند اور کبھی ایشان کی بہن دیپیکا آنند کے حوالے سے نرم رخ ظاہر کیا گیا۔ آخرکار انھوں نے ایشان آنند کو ہی ذمہ داری سونپنے کا فیصلہ سنایا، اور دیپیکا معاملے پر ایک طرح سے خاموشی اختیار کر لی۔ قابل ذکر ہے کہ مایاوتی صرف آکاش آنند سے ہی ناراض نہیں ہیں، بلکہ آکاش کے سسر اور بی ایس پی کی طرف سے راجیہ سبھا رکن رہ چکے اشوک سدھارتھ سے بھی انھوں نے خفگی کا اظہار کیا ہے۔
گزشتہ 3 ستمبر کو مایاوتی نے جب اپنے بھتیجے آکاش آنند کو قومی کوآرڈینیٹر کے عہدے سے ہٹایا تھا، تو انہیں پارٹی کے ایک عام کارکن کے طور پر رہنے کی اجازت دی تھی۔ پھر 9 ستمبر کو مایاوتی نے اشارہ دیا تھا کہ آکاش آنند کی ذمہ داریاں بحال کی جا سکتی ہیں، اگر ان کے سسر اشوک سدھارتھ سیاست سے مکمل طور پر ریٹائرمنٹ لے لیں۔









