نئی دہلی23ستمبر: کانگریس صدر ملکارجن کھڑگے نے الیکشن کمیشن کے کام کاج اور چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے کردار پر سوالات اٹھاتے ہوئے راجیہ سبھا کے چیئرمین سے مطالبہ کیا ہے کہ چیف الیکشن کمشنر کو عہدے سے ہٹانے سے متعلق اپوزیشن کی زیرالتوا تحریک پر فیصلہ کیا جائے۔ کھڑگے نے یہ بات بدھ کو سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری ایک پوسٹ میں کہی۔ کھڑگے نے کہا کہ کانگریس اور کئی اپوزیشن جماعتیں گزشتہ کئی برسوں سے ملک میں ہونے والے انتخابات کی غیر جانب داری پر سوال اٹھاتی رہی ہیں۔ ان کے مطابق اپوزیشن کی جانب سے انتخابی کمیشن کے کردار پر سوالات اٹھائے گئے تو انہیں نظرانداز کیا گیا اور کمیشن تک رسائی بھی محدود رہی۔ کانگریس صدر نے ایک میڈیا رپورٹ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ الیکشن کمیشن کے تین ارکان میں سے دو، الیکشن کمشنر سکھبیر سنگھ سندھو اور وویک جوشی، نے گزشتہ 10 ماہ کے دوران کم از کم 14 مرتبہ کمیشن کے بعض فیصلوں اور اقدامات پر تحریری اعتراضات درج کیے۔ رپورٹ کے مطابق ان اعتراضات میں ووٹر رجسٹریشن، ناموں کے اخراج، فارم 6 میں تبدیلی، انتخابی ڈیٹا بیس کی مرکزیت اور ووٹر فہرستوں سے متعلق دیگر امور شامل تھے۔ کھڑگے نے دعویٰ کیا کہ ان اعتراضات میں فارم 6 کے مبینہ غلط استعمال، سافٹ ویئر اور انتخابی ڈیٹا کے انتظام سے متعلق خدشات بھی شامل تھے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار نے ان اعتراضات پر کیا کارروائی کی۔ تاہم الیکشن کمیشن نے اندرونی اختلافات کی خبروں کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ کمیشن کے ارکان کی جانب سے ابتدائی مراحل میں سوالات، تجاویز یا مختلف آرا پیش کرنا معمول کے انتظامی عمل کا حصہ ہے۔ کمیشن کے مطابق ایس آئی آر سمیت تمام حتمی فیصلے تینوں کمشنروں کی منظوری سے متفقہ طور پر کیے گئے۔









