نئی دہلی 23ستمبر:سپریم کورٹ نے 23 ستمبر کو الیکشن کمشنرز کی تقرری سے متعلق ایک اہم حکم جاری کیا۔ اس معاملے میں فیصلہ کے لیے 2 ججوں کی متضاد رائے دیکھنے کو ملی، جس کو پیش نظر رکھتے ہوئے عدالت عظمیٰ نے فیصلہ کیا کہ اب الیکشن کمشنرز کی تقرری کا بڑی بنچ کرے گی۔ معاملہ بڑی بنچ کو بھیجے جانے پر جسٹس دتہ اور جسٹس شرما ایک رائے نہیں رکھتے۔ اس لیے سپریم کورٹ کی 3 ججوں کی بنچ یہ طے کرے گی کہ اس معاملے کی سماعت 5 ججوں کی بنچ کرے یا نہیں۔ یعنی یہ معاملہ آئینی بنچ کے پاس بھیجا جا سکتا ہے۔
سپریم کورٹ نے یہ منقسم فیصلہ چیف الیکشن کمشنر اور الیکشن کمشنرز سے متعلق ایکٹ کی قانونی حیثیت کو چیلنج کرنے والی عرضیوں پر سنایا ہے۔ سپریم کورٹ میں 2023 کے الیکشن کمشنرز سے متعلق ایکٹ کو چیلنج کرنے والی عرضیوں کو بڑی بنچ کے پاس بھیجنے کا مطالبہ کیا گیا تھا۔ اس قانون میں الیکشن کمشنرز کی تقرری کے لیے الیکشن کمیٹی میں چیف جسٹس آف انڈیا (سی جے آئی) کی جگہ کابینی وزیر کو شامل کیا گیا ہے۔ اسی التزام کو چیلنج کیا جا رہا ہے۔ مرکزی حکومت نے آئین کے آرٹیکل (3)145 کے تحت معاملے کو بڑی بنچ کے پاس بھیجنے کی اپیل کی تھی۔ جسٹس دیپانکر دتہ اور جسٹس ستیش چندر شرما کی بنچ نے 30 جولائی کو اس مطالبے پر فیصلہ محفوظ رکھ لیا تھا۔ جسٹس دتہ نے حکومت کے اس مطالبے کو مسترد کر دیا اور 2023 کے قانون کو چیلنج کرنے والے معاملے پر اپنی ابتدائی رائے دی۔
جسٹس دتہ نے فیصلہ سناتے ہوئے کہا کہ ’’ہم نے ان عرضیوں پر 5 دن سے زیادہ وقت تک سماعت کی۔ متفقہ طور پر بات کرنے سے ادارہ جاتی اتحاد کو تقویت ملتی۔ بدقسمتی سے، ہماری رائے الگ الگ ہے۔‘‘ آئینی نظام کا یہ بنیادی اصول ہے کہ حکمراں قانون کے پابند ہوتے ہیں، قانون سے بالاتر نہیں۔ جسٹس شرما نے جسٹس دتہ کی باتوں سے اختلاف کیا۔ انہوں نے کہا کہ اس معاملے میں قانون کا ایک اہم سوال ہے، جس کا فیصلہ بڑی بنچ کو کرنا چاہیے۔ اختلاف رائے کے سبب بنچ نے حکم دیا کہ معاملہ چیف جسٹس کے پاس بھیجا جائے۔ وہ طے کریں گے کہ اس کی قانونی حیثیت پر فیصلہ کرنے کے لیے آئینی بنچ تشکیل دی جائے یا نہیں۔ جسٹس دتہ نے کہا کہ الیکشن کمیشن کا صرف آزاد ہونا کافی نہیں ہے، بلکہ اسے آزاد نظر بھی آنا چاہیے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ وزیر اعظم کی جانب سے نامزد وزیر سے یہ توقع نہیں کی جا سکتی کہ وہ وزیر اعظم کے خلاف جائے گا، کیونکہ اجتماعی ذمہ داری کا اصول اسے ایسا کرنے سے روکتا ہے۔ جسٹس دتہ نے کہا کہ یہ توقع رکھنا بے سود ہے کہ کابینی وزیر اپنے رہنما یا حکومت سے اختلاف کرے گا۔ وزرا کو شامل کرنے سے وہ آزادانہ توازن پیدا نہیں ہوتا جو منصفانہ انتخاب کے لیے ضروری ہے۔