نئی دہلی 22اپریل:2006 کے مالیگاؤں سلسلہ وار دھماکہ کیس میں بامبے ہائی کورٹ نے آج انتہائی اہم فیصلہ سنایا۔ عدالت نے بدھ کے روز 4 ملزمین کے خلاف الزام طے کرنے والے حکم کو رد کرتے ہوئے انھیں بری کر دیا۔ مالیگاؤں میں ہوئے ان دھماکوں میں 37 افراد کی جان چلی گئی تھی۔ ہائی کورٹ کے چیف جسٹس چندرشیکھر اور جسٹس شیام چاندک کی ڈویژنل بنچ نے ملزمین کی طرف سے ایک اسپیشل کورٹ کے ستمبر 2025 کے اس حکم کے خلاف داخل اپیلوں پر یہ فیصلہ سنایا، جس میں ان کے خلاف الزام طے کیے گئے تھے۔ اس اپیل میں ٹرائل کورٹ کی طرف سے الزام طے کرنے کے طریقے اور معاملے میں کئی شریک ملزمین کو بری کیے جانے پر بھی سوال اٹھائے گئے تھے۔ فی الحال ہائی کورٹ نے جن 4 ملزمین کے خلاف الزام طے کرنے والے حخم کو رَد کیا ہے، ان میں راجندر چودھری، دھن سنگھ، منوہر رام سنگھ نرواریا اور لوکیش شرما شامل ہیں۔ ہائی کورٹ کے آج کے فیصلہ سے ان ملزمین کے خلاف معاملہ بند ہو گیا ہے اور ان کے خلاف چل رہا ٹرائل بھی ختم ہو گیا ہے۔ بنچ نے اس سے قبل اپیل داخل کرنے میں ہوئی 49 دن کی تاخیر کو یہ دیکھتے ہوئے معاف کر دیا تھا کہ عرضی این آئی اے ایکٹ کی دفعہ 21 کے تحت ایک جائز اپیل تھی۔ قابل ذکر ہے کہ مالیگاؤں میں سلسلہ وار دھماکے 8 ستمبر 2006 کو ہوئے تھے۔ واقعہ کے بعد نامعلوم لوگوں کے خلاف تعزیرات ہند کی دفعات، غیر قانونی سرگرمیاں (روک تھام) ایکٹ اور دیگر قوانین کے تحت معاملہ درج کیا گیا تھا۔ جانچ سب سے پہلے مہاراشٹر انسداد دہشت گردی دستہ (اے ٹی ایس) نے کی تھی، جس نے 12 ملزمین کو گرفتار کیا اور دسمبر 2006 میں چارج شیٹ داخل کی۔ اس کے بعد فروری 2007 میں جانچ سی بی آئی کو سونپ دی گئی، اور بعد میں این آئی اے نے اسے اپنے ہاتھ میں لے لیا۔
این آئی اے نے آگے کی جانچ کے بعد دیگر ملزمین کے ساتھ ساتھ ان چاروں کو بھی ملزم بنایا تھا اور ایک نئی چارج شیٹ داخل کی تھی۔









