بھوپال:24؍اگست:وزیراعلیٰ ڈاکٹر موہن یادو نے کہا کہ نوجوان طاقت کو جدید کاشت کاری سے جوڑنے، کسانوں کی آمدنی بڑھانے کے ساتھ ساتھ زرعی مصنوعات کی برآمد پر ریاستی حکومت خصوصی توجہ دے رہی ہے۔ بدلتے دور میں کاشت کاری کا وقت بھی بدل گیا ہے۔ نئی ٹیکنالوجی اور نئی فصلوں کی حوصلہ افزائی کے لیے ریاستی حکومت پْرعزم ہے۔ نوجوانوں کے لیے ضروری ہے کہ وہ اپنی جڑوں سے جڑے رہیں۔ نوجوان زرعی فیکلٹی کی تعلیم حاصل کرکے اپنے مستقبل کے لیے نئے راستے بنائیں۔ کسان ویئر ہاؤس اور پولی ہاؤس قائم کریں۔مدھیہ پردیش میں دودھ پیداوار بڑھانے کے لیے نیشنل ڈیری ڈیولپمنٹ بورڈ (این ڈی ڈی بی) کے ساتھ ایم او یو کیا گیا ہے۔ ریاستی حکومت مدھیہ پردیش کو دودھ کی پیداوار میں سرکردہ ریاست بنانا چاہتی ہے۔ دودھ پیداوار کسانوں کی آمدنی بڑھانے میں خصوصی طور پر معاون ہے۔ ریاستی حکومت کی کوششوں سے کسانوں کو اب دودھ کی قیمت 8 سے 10 روپے فی لیٹر زیادہ ملنے لگی ہے۔ وزیرِ اعلیٰ مسٹر ڈاکٹر یادو مدھیہ پردیش یوتھ کمیشن کے زیرِ اہتمام منعقد زرعی اختراعی مکالمے کے پروگرام سے خطاب کر رہے تھے۔ وزیراعلیٰ ڈاکٹر یادو نے رویندر بھون میں چراغ روشن کرکے پروگرام کا افتتاح کیا۔
وزیراعلیٰ ڈاکٹر یادو نے کہا کہ ریاست میں ہر سال ایک لاکھ گِر نسل کی بچھڑیاں تیار کرنے کا منصوبہ جلد ہی نافذ کیا جائے گا، جس سے دودھ پیداوار بڑھے گی۔ مویشی پالنے والوں کو اعلیٰ نسلیں فراہم کرنے کے لیے ریاستی حکومت نے ڈاکٹر بھیم راؤ امبیڈکر کام دھینو یوجنا شروع کی ہے۔ کسان کاشت کاری کے ذریعے کئی لوگوں کو روزگار کا ذریعہ فراہم کرتا ہے اور قدرت کی خدمت بھی کرتا ہے۔ کسانوں کا مفاد ریاستی حکومت کے لیے سب سے زیادہ اہم ہے۔اس موقع پر وزیر کھیل اور نوجوان بہبود ، امداد باہمی وزیر مسٹر وشواس سارنگ اور یوتھ کمیشن کے صدر مسٹر پروین شرما موجود تھے۔ وزیراعلیٰ ڈاکٹر یادو نے پروگرام میں موجود زرعی کالجوں کے طلباء، زرعی اسٹارٹ اَپ نمائندوں، ایگریکلچر انفلوئنسرز اور زرعی شعبہ میں اختراع کرنے والے افراد سے بات چیت کی۔
وزیر اعلیٰ ڈاکٹر یادو نے کہا کہ وزر اعظم مسٹر نریندر مودی کی رہنمائی میں مدھیہ پردیش میں آب پاشی کا رقبہ تیزی سے بڑھ رہا ہے۔ ریاستی حکومت نے اگلے 5 سال میں آب پاشی کا رقبہ بڑھا کر 100 لاکھ ہیکٹر تک پہنچانے کا ہدف مقرر کیا ہے۔ ہماری کوشش ہے کہ ہر گاؤں تک صاف پینے کا پانی اور ہر کھیت تک آب پاشی کے لیے پانی دستیاب ہو جائے۔انہوں نے کہا کہ ہزاروں سال سے ہماری شناخت زرعی ملک کی رہی ہے۔ ریاستی حکومت زراعت میں نوجوانوں کو آگے بڑھانے کے لیے ہر طرح سے مدد کر رہی ہے۔ ریاست کی یونیورسٹیوں میں زرعی فیکلٹی کی تعلیم شروع کروائی گئی ہے۔زیراعلیٰ ڈاکٹر یادو نے کہا کہ مدھیہ پردیش کو زرعی شعبہ میں خوشحال بنانے کے لیے ڈویزن اور ضلع سطح پر زرعی اختراعی مکالمے کے پروگرام منعقد کیے جائیں گے۔ انہوں نے نوجوانوں کو قدرتی اور نامیاتی کاشت کاری سے جڑنے کی ترغیب دی۔وزیراعلیٰ ڈاکٹر یادو نے کہا کہ کسانوں کو فصل کے لیے ایم ایس پی پر مناسب قیمت ملے، اس کے لیے ریاستی حکومت مسلسل کسان دوست فیصلے لے رہی ہے۔ ریاستی حکومت نے کسانوں کو ہر سال ایم ایس پی پر بونس دے کر گندم خریدی ہے۔ مدھیہ پردیش ملک میں سب سے زیادہ گندم خریدنے والی ریاست بن گئی ہے۔ سویا بین کی فصل پر بھی کسانوں کو بھاوَانتر یوجنا کے تحت فائدہ دیا گیا ہے۔
وزیراعلیٰ ڈاکٹر یادو نے آمدنی بڑھانے کے مقصد سے نوجوانوں کو کثیر فصلی کاشت کاری کرنے، زراعت کے ساتھ مویشی پالنے، ماہی گیری، بکری پالنے اور مرغی پالنے کو اپنانے کی ترغیب دی۔ انہوں نے کہا کہ کسان زرعی مشینوں کی نئی ٹیکنالوجی کو اپناتے ہوئے اختراعی طریقوں کو آگے بڑھائیں۔پہلے کسان صرف ایک فصل لیتے تھے، اب دو سے تین فصلیں لینے اور متبادل کاشت کاری سے کسانوں کی آمدنی میں اضافہ ہوا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ریاستی حکومت نے کسانوں کے مفاد میں عزم کے ساتھ فیصلے لیتے ہوئے کسان بہبود سال کا آغاز کیا ہے۔ اس میں فوڈ پروسیسنگ اور زراعت پر مبنی کاروباری سرگرمیوں کی ترقی پر خصوصی زور ہے۔ انہوں نے کہا کہ کاشت کاری کو منافع بخش کاروبار بنانا ہمارا ہدف ہے۔
وزیراعلیٰ ڈاکٹر یادو سے زرعی فیکلٹی کے طلباء، زرعی شعبہ میں اختراع کرنے والے کاروباری افراد اور کسانوں نے مکالمہ کیا۔ اس کے تحت باغبانی کی فصلوں، موتی اور مشروم، ایواکاڈو، سونا موتی گندم کی کاشت، پولی ہاؤس، شہد کی مکھی پالنے جیسے اختراعی کاموں، زرعی ٹیکنالوجی پر تیار کیے گئے ایپس، سرکاری اسکیموں اور پروگراموں وغیرہ پر تفصیلی گفتگو ہوئی۔وزیراعلیٰ ڈاکٹر یادو نے کھیت اور کھلیان سے متعلق اپنے تجربات شیئر کرتے ہوئے نوجوانوں کو مثبت سوچ کے ساتھ زرعی شعبہ میں سرگرمیاں انجام دینے کی ترغیب دی۔وزیراعلیٰ ڈاکٹر یادو نے کہا کہ پہلے بنگال سے مچھلی کے بیج مدھیہ پردیش لاکر ماہی گیر بھائی پیداوار کرتے تھے۔
ریاست میں تالابوں اور آبی ذخائر کی تعداد کافی ہے۔ ریاستی حکومت نے مچھلی کے بیج تیار کرنے کے لیے تین ہیچریاں شروع کی ہیں۔ ماہی گیری کے ذریعہ بھی نوجوان بہتر منافع کما رہے ہیں۔
وزیر کھیل اور نوجوان بہبود نیز امداد باہمیمسٹر سارنگ نے کہا کہ ترقی یافتہ بھارت کے لیے بنیادی بنیاد زراعت ہی ہے۔ بھارت کو زرعی ملک کہا جاتا ہے۔ وزیر اعظم مسٹر مودی نے سال 2047 تک بھارت کو ترقی یافتہ ملک بنانے کا عزم کیا ہے۔ انہوں نے چار طبقات—غریب، کسان، نوجوان اور خواتین—کی فلاح کی بات کہی ہے۔وزیراعلیٰ ڈاکٹر یادو نے زراعت اور کسان کو خوشحال بنانے کے لیے اس سال کو کسان بہبود کے لیے وقف کیا ہے۔ ریاست میں نوجوانوں کو زراعت اور زراعت پر مبنی کاروبار سے جوڑنے کی مہم جاری ہے۔ نوجوان ہی تبدیلی کی بنیاد بنتے ہیں۔وزیراعظم مسٹر مودی کے ساتھ وزیر اعلیٰ ڈاکٹر یادو سنہری مدھیہ پردیش اور ترقی یافتہ ملک کی تعمیر کے لیے قدم سے قدم ملا کر چل رہے ہیں۔پروگرام میں زرعی کالجوں کے طلباء، زرعی کالجوں کے فیکلٹی ممبران، زرعی سائنس دان، زرعی اسٹارٹ -اپ نمائندے، نوجوان سرپنچ، زرعی محققین، زرعی شعبہ میں اختراعات کے ساتھ کام کرنے والے نوجوان ساتھی اور زرعی اثرانداز بڑی تعداد میں موجود تھے۔