یکم نومبر کا دن مدھیہ پردیش کی تاریخ میں خاص اہمیت رکھتا ہے۔ اسی دن 1956 میں مدھیہ پردیش ایک نئی ریاست کی حیثیت سے وجود میں آیا اور بھوپال کو اس کا دارالحکومت بننے کا اعزاز حاصل ہوا۔ ہر سال یہ دن ہمیں اپنی ریاست کی ترقی، کامیابیوں اور امکانات پر غور کرنے کا موقع فراہم کرتا ہے۔ لیکن کسی شہر یا ریاست کا یومِ تأسیس محض جشن منانے، تقریبات منعقد کرنے اور ماضی کی عظمت بیان کرنے کا نام نہیں، بلکہ یہ اپنے حال کا جائزہ لینے اور مستقبل کے لیے نئی راہیں متعین کرنے کا بھی موقع ہے۔
بھوپال کی تاریخ صرف ایک شہر کی تاریخ نہیں، بلکہ مختلف تہذیبوں، زبانوں، مذاہب اور روایات کے میل جول کی تاریخ بھی ہے۔نواب دوست محمد خان سے وابستہ اس شہر کی تاریخی بنیاد اور یہاں کی بیگمات کی تعلیمی، سماجی اور انتظامی خدمات نے بھوپال کو ایک منفرد شناخت عطا کی۔ خصوصاً خواتین کی تعلیم، صحت اور عوامی فلاح کے میدان میں ان کی کوششیں آج بھی ہمارے لیے اہمیت رکھتی ہیں۔ بھوپال کی گنگا جمنی تہذیب، اردو ادب، مشترکہ سماجی زندگی اور مختلف مذاہب کے لوگوں کے باہمی تعلقات اس شہر کے تہذیبی ورثے کا اہم حصہ رہے ہیں۔اس ورثے کی اصل خوبصورتی یہ ہے کہ بھوپال کی شناخت کسی ایک مذہب یا برادری تک محدود نہیں رہی۔ اس شہر کی تعمیر و ترقی، علمی و ادبی سرگرمیوں اور معاشرتی زندگی میں مختلف طبقات کے لوگوں نے اپنا کردار ادا کیا ہے۔ اسی لیے بھوپال کی تاریخ ہمیں یہ سبق دیتی ہے کہ اختلافات کے باوجود ایک ساتھ رہنا، ایک دوسرے کی عزت کرنا اور مشترکہ مسائل کے حل کے لیے مل کر کام کرنا ہی ایک مضبوط سماج کی بنیاد ہے۔لیکن سوال یہ ہے کہ کیا ہم آج بھی اپنی اس تاریخی روایت کی حفاظت کر پا رہے ہیں؟ کیا بھوپال اور مدھیہ پردیش میں رہنے والے تمام شہری خود کو یکساں طور پر محفوظ، باعزت اور ترقی کے مواقع سے فائدہ اٹھانے کے قابل محسوس کرتے ہیں؟ کیا ہماری سماجی اور سیاسی فضا میں محبت، رواداری اور باہمی احترام کو وہی اہمیت حاصل ہے جو ایک ترقی یافتہ اور مہذب معاشرے کے لیے ضروری ہے؟
یہ سوالات اس لیے اہم ہیں کہ کسی شہر کی ترقی صرف سڑکوں، عمارتوں، پلوں اور دیگر تعمیراتی منصوبوں سے نہیں ناپی جا سکتی۔ حقیقی ترقی اس وقت سامنے آتی ہے جب شہریوں کو انصاف ملے، بچوں کو معیاری تعلیم حاصل ہو، نوجوانوں کے لیے روزگار کے مواقع پیدا ہوں اور کسی شخص کو اس کے مذہب، ذات یا سماجی حیثیت کی بنیاد پر امتیازی سلوک کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ اس سب پر مدھیہ پردیش کہاں کھڑا ہے؟
بدقسمتی سے، ہمارے معاشرے میں وقتاً فوقتاً ایسے واقعات سامنے آتے ہیں جو باہمی اعتماد اور سماجی ہم آہنگی کو نقصان پہنچاتے ہیں۔ مذہبی شناخت کی بنیاد پر کشیدگی، اشتعال انگیز بیانات اور افواہوں کا پھیلاؤ کسی بھی معاشرے کے لیے تشویش کا باعث ہونا چاہیے۔ ایسے حالات میں حکومت، انتظامیہ، سیاسی جماعتوں، مذہبی رہنماؤں اور سماجی تنظیموں کی ذمہ داری مزید بڑھ جاتی ہے کہ وہ اپنے کردار سے امن و اعتماد کو مضبوط کریں۔
مدھیہ پردیش کے قیام کو تقریباً سات دہائیاں گزر چکی ہیں۔ اس دوران ریاست نے مختلف شعبوں میں ترقی کی ہے، لیکن اس کے وسائل، آبادی کے مقابلے میں ترقی کی رفتار اور اس کے ثمرات پر سنجیدگی سے غور کرنے کی ضرورت ہے۔ (Per Capita Income)فی کس آمدنی میں بہتری کے عمومی دعوؤں سے زیادہ اہم یہ سوال ہے کہ اس ترقی کا فائدہ عام شہری، غریب خاندان، کسان، مزدور اور نوجوان تک کس حد تک پہنچا ہے۔ تعلیم، روزگار، صنعت کاری اور معیارِ زندگی کے میدان میں ابھی بہت کچھ کیا جانا باقی ہے۔ ریاست کے نوجوانوں کو بہتر تعلیم اور روزگار کے لیے دوسرے شہروں کا رخ کرنے پر مجبور ہونا پڑے تو یہ صورتِ حال پالیسی سازوں کی توجہ چاہتی ہے۔
بھوپال کو ریاست کے ایک بڑے تعلیمی مرکز کی حیثیت سے ترقی دینے کے وسیع امکانات موجود ہیں، لیکن یہ شہر آج تک ملک کے نمایاں تعلیمی مراکز میں اپنی مطلوبہ جگہ حاصل نہیں کر سکا۔ برکت اللہ یونیورسٹی کو مرکزی یونیورسٹی کا درجہ دینے، اعلیٰ تعلیمی اداروں کو مضبوط بنانے اور جدید علوم، تحقیق، فنی تربیت اور روزگار سے متعلق تعلیم کے مواقع بڑھانے جیسے امور پر سنجیدہ توجہ دی جانی چاہیے۔ اسی طرح بھوپال میں ہائی کورٹ کی بنچ قائم کرنے کی ضرورت پر بھی غور ہونا چاہیے، تاکہ انصاف کے حصول میں شہریوں کو سہولت مل سکے اور ریاست کے دارالحکومت کو اس کی انتظامی و قانونی اہمیت کے مطابق سہولتیں حاصل ہوں۔
مدھیہ پردیش کی معیشت میں زراعت کی اہمیت سے انکار نہیں کیا جا سکتا، لیکن کسانوں کی مشکلات بھی مسلسل توجہ چاہتی ہیں۔ فصلوں کی مناسب قیمت، کھیتی کی بڑھتی لاگت، آب پاشی کی سہولتوں اور زرعی پیداوار کی مناسب خریداری جیسے مسائل کا مؤثر حل ضروری ہے۔ اسی طرح صنعت کاری کو فروغ دیے بغیر روزگار کے وسیع مواقع پیدا کرنا مشکل ہے۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ سرمایہ کاری، صنعتی اداروں، چھوٹی صنعتوں اور فنی تربیت کو اس طرح فروغ دیا جائے کہ ریاست کے نوجوانوں کو اپنے ہی علاقے میں باعزت روزگار کے مواقع مل سکیں۔
بھوپال کی تاریخی شناخت اردو زبان اور علمی و ادبی روایت سے بھی وابستہ رہی ہے۔ نوابی دور میں اردو کو حاصل اہمیت اس شہر کے تہذیبی ورثے کا حصہ ہے، لیکن آج یہاں اردو، عربی اور فارسی کی اعلیٰ تعلیم و تحقیق کے لیے ایک جامع اور مؤثر ادارے کی ضرورت محسوس ہوتی ہے۔آخر بھوپال میں اردو، عربی اور فارسی یونیورسٹی کب کھلے گی؟ ان زبانوں کے لیے یونیورسٹی یا مضبوط اعلیٰ تعلیمی مرکز کا قیام محض ماضی کی روایت کو زندہ رکھنے کا معاملہ نہیں، بلکہ علمی ورثے کے تحفظ، نئی نسل کی تعلیم اور روزگار کے نئے امکانات پیدا کرنے کا ذریعہ بھی بن سکتا ہے۔ ترقی یافتہ ریاست وہی ہوتی ہے جو جدید تعلیم اور صنعت کے فروغ کے ساتھ اپنی زبانوں، ثقافت اور تاریخی شناخت کی حفاظت بھی کرے۔جمہوری نظام میں حکومت کی کارکردگی کا جائزہ لینا اور اس سے سوال کرنا عوام کا حق ہے۔ قانون اسی وقت مضبوط ہوتا ہے جب اس کا نفاذ سب کے لیے یکساں ہو، جرائم کے خلاف کارروائی ثبوت اور قانون کے مطابق ہو اور کسی بھی شہری کے ساتھ ناانصافی نہ ہونے دی جائے۔ سیاسی قیادت کا اصل امتحان بھی یہی ہے کہ وہ سماج کو تقسیم کرنے کے بجائے لوگوں کو جوڑنے، اختلافات کو کم کرنے اور عوام کے حقیقی مسائل حل کرنے کے لیے کیا اقدامات کرتی ہے۔
مدھیہ پردیش کے یومِ تأسیس کا اصل پیغام یہی ہونا چاہیے کہ ہم اپنی تاریخ اور تہذیبی ورثے پر فخر کرنے کے ساتھ اپنی موجودہ صورتِ حال کا دیانت داری سے جائزہ بھی لیں۔ ریاست کی حقیقی ترقی اسی وقت ممکن ہے جب تعلیم ہر بچے تک پہنچے، نوجوانوں کو روزگار ملے، کسان خوش حال ہوں، صنعتوں کو فروغ حاصل ہو، انصاف تک رسائی آسان ہو اور ہر شہری کو بلا امتیاز ترقی کے یکساں مواقع میسر آئیں۔ اس کے لیے حکومت کی سنجیدہ کوششوں کے ساتھ عوامی بیداری، سماجی تنظیموں کی سرگرم شرکت اور شہریوں کی اجتماعی ذمہ داری بھی ضروری ہے۔ ہمیں ایسا مدھیہ پردیش تشکیل دینے کے لیے مسلسل جدوجہد کرنی ہوگی جہاں ترقی کا فائدہ معاشرے کے ہر طبقے تک پہنچے، محبت اور بھائی چارے کی روایت مضبوط ہو اور کسی شہری کو مذہب، ذات یا زبان کی بنیاد پر محرومی یا امتیاز کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ کیونکہ کسی ریاست کی عظمت صرف اس کے ماضی سے نہیں، بلکہ اس کے حال کی کارکردگی اور مستقبل کے لیے کیے جانے والے اقدامات سے متعین ہوتی ہے۔









