نئی دہلی 31اکتوبر: کانگریس صدر ملکارجن کھڑگے کی رہائش پر منعقدہ علامتی پارلیمنٹ کی کارروائی چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے خلاف عوامی مواخذے کی تجویز اتفاق رائے کے ساتھ منظور ہوتے ہی ختم ہو گئی۔ تقریباً 3.14 گھنٹہ تک چلے اس پروگرام کا آغاز اور اختتام دونوں ہی ’جن گن من‘ کے ساتھ ہوا۔ اس علامتی پارلیمانی کارروائی کی صدارت سابق لوک سبھا اسپیکر میرا کمار نے کی، جنھوں نے ایس آئی آر اور چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے خلاف عوامی مواخذے پر بحث کے بعد ووٹنگ کا اعلان کیا۔ اس موقع پر علامتی پارلیمنٹ میں موجود سبھی سیاسی و سماجی ہستیوں نے ہاتھ اٹھا کر گیانیش کمار کے خلاف عوامی مواخذے کی حمایت ظاہر کی، اور اس کے ساتھ میرا کمار نے اس تجویز کے اتفاق رائے سے منظور ہونے کا اعلان بھی کر دیا۔
ایس آئی آر اور چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے خلاف عوامی مواخذے پر تبادلۂ خیال میں لوک سبھا میں حزب اختلاف کے قائد ملکارجن کھڑگے، ترنمول کانگریس رکن پارلیمنٹ مہوا موئترا، سماجوادی پارٹی رکن پارلیمنٹ ہریندر ملک سمیت درجنوں سیاسی لیڈران نے اپنی باتیں رکھیں۔ لوک سبھا میں حزب اختلاف کے قائد راہل گاندھی کی تقریر سب سے آخر میں ہوئی، اور انھوں نے مختصراً کئی اہم حقائق بھی سامنے رکھے اور یہ عزم بھی ظاہر کیا کہ گیانیش کمار اور ان جیسے لوگوں کو کبھی معاف نہیں کیا جائے گا۔ اپنی تقریر کے دوران راہل گاندھی نے کہا کہ ’’مسٹر گیانیش کمار ہندوستان کے چیف الیکشن کمشنر کے عہدے پر برقرار نہیں رہ پائیں گے۔
ہمارے پاس اس بات کو یقینی بنانے کے لیے کافی ثبوت موجود ہیں کہ یہ صاحب اپنے عہدے پر مزید برقرار نہ رہ سکیں۔‘‘ ساتھ ہی انھوں نے کہا کہ ’’اگر بی جے پی ہمارے انکشافات کے باوجود انہیں عہدے پر برقرار رکھنے کی ضد کرتی ہے تو بی جے پی کا کھیل سب کے سامنے بے نقاب ہو جائے گا۔‘‘ علامتی پارلیمنٹ سے متعلق انھوں نے کہا کہ ’’بظاہر یہ اراکین پارلیمنٹ اور عام شہریوں کی ایک میٹنگ دکھائی دے سکتی ہے، لیکن حقیقت میں یہ ایک سیاسی اسلحہ ہے، جس کا براہ راست نشانہ ان تمام افراد کو بنانا ہے، جنہوں نے ہندوستانی عوام کے ووٹ کو تباہ کرنے کی سازش میں ساتھ دیا ہے۔‘‘