بھوپال،18اپریل (پریس نوٹ): حال ہی میں بہار سے مہاراشٹر کے لاتور ضلع کے مدرسہ میں تعلیم حاصل کرنے کی غرض سے لے کر جارہے مدرسہ کے طلباء کو مدھیہ پردیش کے کٹنی ریلوے اسٹیشن پر آر پی ایف، جی آر پی، بال کلیان سمیتی کی مشترکہ ٹیم نے روک لیا اور اُن کے ساتھ جارہے مدرسہ کے اساتذہ کو حراست میں لے لیا اور بچوں کو جبل پور بال گرہ بھیج دیا تھا، اِس بات کو لے کر جمعیۃ علماء مدھیہ پردیش کے صدر حاجی محمد ہارون نے اپنی سخت ناراضگی جتائی تھی۔ اِس معاملہ کو تقریباً ایک ہفتہ گزر گیا ہے اور مختلف کوششوں کے باوجود بھی ابھی تک اِن طلباء کو چائلڈ ہومز کے ذریعہ اُن کے سرپرستوں کے سپرد نہیں کیا گیا ہے، جس سے بچوں کے والدین وسرپرستوں میں بہت ہی بے چینی پائی جاتی ہے۔ اِس بات کو لے کر جمعیۃ علماء کے ریاستی صدر حاجی محمد ہارون نے اپنا ایک بیان جاری کرکے صوبہ کے وزیراعلیٰ ڈاکٹر موہن یادو جی سے خاص طور سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ مقامی انتظامیہ اور چائلڈلائن کو حکم جاری کریں کہ وہ جلد سے جلد اِن بچوں کو چائلڈ لائن سے رہا کرکے اُن کے سرپرستوں اور والدین کو سونپا جائے۔ کیونکہ یہ تمام بچے کوئی مجرمین نہیں ہیں بلکہ تعلیم حاصل کرنے کی غرض سے اپنے گھروں سے نکلے تھے، اسی کے ساتھ انہوں نے طلباء کو لے کر آرہے مدرسہ کے اساتذہ کو بھی جلد سے جلد رہا کیے جانے کا مطالبہ کیا ہے۔ آگے انہوں نے کہا کہ بال کلیان سمیتی اور پولیس کی یہ کاروائی خلاف قانون ہے۔ بچوں کو کسی بھی طرح کی زبردستی کرکے یہاں نہیں لایا جارہا تھا بلکہ ملک کے الگ الگ صوبوں سے جیسے تعلیم حاصل کرنے کی غرض سے طالب علم ایک سے دوسرے صوبے میں جاتے ہی رہتے ہیں ویسے ہی یہ بچے بھی تعلیم حاصل کرنے جارہے تھے۔ آگے انہوں نے یہ بھی مطالبہ رکھا کہ اِس پورے معاملہ کی اعلیٰ سطحی جانچ کرائی جائے اور جو لوگ بنا کسی ٹھوس ثبوت کے مدرسہ کے طلباء اور اساتذہ کو ہراساں کررہے ہیں اور سنگین الزامات لگا رہے ہیں اُن پر بھی فوری کاروائی کی جائے۔