نئی دہلی 16جون: نیٹ سمیت مختلف مسابقتی امتحانات میں مبینہ بے ضابطگیوں، پرچہ لیک ہونے کے معاملات اور نیٹ ری-ایگزام معاملہ پر مرکز کی مودی حکومت لگاتار نشانے پر ہے۔ اب نیٹ ری-ایگزام سے قبل ٹیلیگرام پر عارضی پابندی عائد کیے جانے کا معاملہ سرخیوں میں ہے۔ اس تعلق سے کانگریس صدر ملکارجن کھڑگے نے مودی حکومت پر شدید تنقید کی ہے۔ انہوں نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر جاری ایک بیان میں حکومت کو امتحان کے نظام کی ناکامیوں کا ذمہ دار قرار دیتے ہوئے مرکزی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفیٰ کا مطالبہ کیا۔ ملکارجن کھڑگے نے اپنی سوشل میڈیا پوسٹ میں کہا کہ ’’مودی حکومت نے نیٹ کے ری-ایگزام کے لیے ٹیلیگرام کو عارضی طور پر بلاک کر دیا ہے، لیکن اصل ضرورت یہ ہے کہ سب سے پہلے وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان سے استعفیٰ لیا جائے، کیونکہ انہوں نے کروڑوں نوجوانوں کے مستقبل کو بلاک کر رکھا ہے۔‘‘ انھوں نے مزید کہا کہ ’’حکومت کو کبھی ہندوستانی فضائیہ کو استعمال کرنا پڑتا ہے، کبھی ٹیلیگرام پر پابندی لگانی پڑتی ہے اور کبھی چھوٹے موٹے ملزمین کو پکڑ کر اصل پیپر لیک مافیا کو بچانے کی کوشش کی جاتی ہے۔
گزشتہ دس برسوں میں 90 سے زائد امتحانات کے پیپر لیک ہوئے ہیں اور تقریباً 9 کروڑ نوجوان اس بدعنوانی اور بے ضابطگی کا خمیازہ بھگت رہے ہیں۔‘‘