یروشلم، 6 اپریل (یواین آئی) اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو نے اعلان کیا ہے کہ گزشتہ شب ایک فوجی کارروائی میں ریولوشنری گارڈ (آئی آرجی سی) کے انٹیلی جنس ڈویژن کے سربراہ ماجد خادمی مارے گئے۔اسرائیلی دعوے کے مطابق مسٹرخادمی کا شمار ایرانی حکومت کے اعلیٰ ترین عہدیداروں میں ہوتا تھا۔ اس کے ساتھ ہی، اسرائیل نے قدس فورس کی یونٹ 840 کے کمانڈر اصغر باقری کو بھی ہلاک کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔مسٹر نیتن یاہو نے سوشل میڈیا پر لکھا، “آج رات ہم نے ریولوشنری گارڈ کے انٹیلی جنس ڈویژن کے سربراہ ماجد خادمی کو ختم کر دیا۔ وہ ایرانی حکومت کے اعلیٰ اہلکاروں میں سے ایک تھا، جس نے حال ہی میں اپنے پیشرو کے خاتمے کے بعد یہ ذمہ داری سنبھالی تھی۔” انہوں نے مزید کہا کہ مسٹر باقری کو بھی مار دیا گیا ہے جو دبیا بھر میں یہودیوں اور اسرائیلیوں کے خلاف حملوں کا ذمہ دار تھا۔ اس کے بعد انہوں نے ایران سمیت اپنے تمام دشمنوں کو متنبہ کرتے ہوئے لکھا، “جو کوئی بھی ہمارے شہریوں کو قتل کرنے کی سازش کرے گا، جو اسرائیل کے خلاف دہشت گردی کا آپریشن کرے گا اور جو کوئی بھی ‘برائی کے محور ایران کی تعمیر کرے گا، وہ اپنی موت کا ذمہ دار خود ہوگا۔”ایران کے خلاف جنگ جاری رکھنے کے عزم کا اظہار کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ “ہم پوری قوت اور عزم کے ساتھ کام کر رہے ہیں۔ ہم اس ہر شخص تک پہنچیں گے، جو ہمیں نقصان پہنچانے لی کوشش کرے گا۔ ہم تمام محاذوں پر اس وقت تک ڈٹے رہیں گے جب تک اس خطرے کے مکمل خاتمے اور جنگ کے تمام مقاصد حاصل نہیں ہو جاتے۔”28 فروری سے جاری اس تنازع میں ایران کو پہلے ہی کئی بڑے دھچکے لگ چکے ہیں۔ پہلے ہی روز ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای، مسلح افواج کے چیف آف اسٹاف عبدالرحیم موسوی، ایران کے وزیر دفاع عزیز ناصر زادہ، سابق سکیورٹی چیف اور ملٹری ایڈوائزر علی شمخانی اسرائیل کے مشترکہ حملے میں مارے گئے تھے۔
اس کے بعد 17 مارچ کو قومی سلامتی کونسل کے سکریٹری علی لاریجانی ایک حملے میں مارے گئے اور 18 مارچ کو ایران کے انٹیلی جنس وزیر اسماعیل خطیب کی موت ہوگئی تھی۔