نئی دہلی12اکتوبر: دہلی میں احتجاج کے لیے مقرر مقامات کی فہرست سے جنتر منتر کو ہٹائے جانے کے فیصلے پر انڈیا بلاک کے رہنماؤں نے سخت ردعمل ظاہر کیا ہے۔ اپوزیشن رہنماؤں نے الزام لگایا کہ حکومت عوام کی آواز دبانے کی کوشش کر رہی ہے، لیکن جمہوریت میں عوامی آواز کو خاموش نہیں کیا جا سکتا۔ حکام نے جنتر منتر کی جگہ احتجاج کے لیے رام لیلا میدان، براڑی میدان اور مشرقی دہلی کے سی بی ڈی میدان کو مقرر کیا ہے۔ کانگریس کے سینئر رہنما دگ وجے سنگھ نے کہا کہ پارٹی جو فیصلہ کرے گی، اسی کے مطابق آگے بڑھا جائے گا۔ وہیں، کانگریس رہنما بھوپندر سنگھ ہڈا نے کہا کہ یہ فیصلہ ظاہر کرتا ہے کہ حکومت گھبرائی ہوئی ہے۔ وہ عوام کی آواز دبانا چاہتی ہے، لیکن جمہوریت میں ایسا ممکن نہیں ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ ان کی تحریک جاری رہے گی۔ کانگریس کے رکن پارلیمنٹ عمران مسعود نے جنتر منتر کو احتجاجی مقامات کی فہرست سے ہٹائے جانے پر طنز کرتے ہوئے کہا کہ اب وہ ہمالیہ کی چوٹی پر احتجاج کریں گے۔ سی جے پی کے ترجمان آشوتوش رانکا نے کہا کہ جنتر منتر کئی برسوں سے احتجاج کا ایک تاریخی مرکز رہا ہے، لیکن اب اسی مقام کو بند کر دیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اب ملک کا ہر شہر اور ہر گوشہ جنتر منتر بن جائے گا۔ رانکا نے مطالبہ کیا کہ جب تک چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار استعفیٰ نہیں دیتے، ان کی جدوجہد جاری رہے گی۔
انہوں نے طنزیہ انداز میں کہا کہ اگر احتجاج کے لیے جگہ نہیں دی جا رہی ہے تو اب ماؤنٹ ایورسٹ پر جگہ دے دی جائے۔ کانگریس کے رکن پارلیمنٹ عمران پرتاپ گڑھی نے کہا کہ ان کی لڑائی جمہوریت کو بچانے کے لیے ہے۔
راہل گاندھی واضح کر چکے ہیں کہ یہ جمہوریت کے تحفظ اور انتخابی نظام کو شفاف بنانے کی جدوجہد ہے۔ انہوں نے کہا کہ اپوزیشن جمہوریت کے ہر ستون تک پہنچے گی، جن میں سپریم کورٹ بھی شامل ہے۔ بہار اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر تیجسوی یادو نے کہا کہ ووٹر لسٹ کی خصوصی گہری نظرثانی (ایس آئی آر) کے خلاف لڑائی سب سے پہلے بہار سے شروع ہوئی تھی۔ ان کے مطابق، اب ووٹوں کی چوری اور انتخابات میں دھاندلی کے الزامات سامنے آ رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جمہوریت اور آئین کے تحفظ کے لیے اپوزیشن کسی بھی قربانی سے پیچھے نہیں ہٹے گی۔