نئی دہلی12اکتوبر:چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے خلاف انڈیا بلاک کا سپریم کورٹ تک مارچ ختم ہو گیا ہے۔ لوک سبھا میں اپوزیشن لیڈر راہل گاندھی اور کانگریس صدر ملکارجن کھڑگے سپریم کورٹ میں درخواست دائر کرنے کے بعد احاطے سے روانہ ہوگئے۔ راہل گاندھی کی درخواست عدالت میں باضابطہ طور پر درج کر لی گئی ہے۔ اس میں ووٹر لسٹوں کی خصوصی گہری نظرثانی (ایس آئی آر) کرانے کے فیصلے کو غیر معتبر قرار دینے کی مانگ کی گئی ہے۔ کانگریس صدر ملکارجن کھڑگے نے کہا کہ اپوزیشن اتحاد نے سپریم کورٹ میں درخواست دائر کی ہے۔ درخواست میں ہندوستان کے الیکشن کمیشن، چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار اور دونوں الیکشن کمشنروں سکھبیر سنگھ سندھو اور وویک جوشی کو فریق بنایا گیا ہے۔درخواست میں ایس آئی آر کے عمل کی قانونی حیثیت پر سوال اٹھاتے ہوئے الزام لگایا گیا ہے کہ الیکشن کمیشن نے اپنے اختیارات کا غلط استعمال کیا ہے۔ اپوزیشن اتحاد نے عدالت سے اس عمل کی قانونی حیثیت پر غور کرنے اور ایس آئی آر کے فیصلے کو غیر معتبر قرار دینے کی اپیل کی ہے۔ راہل گاندھی کے ساتھ سینئر وکیل ابھیشیک منو سنگھوی بھی سپریم کورٹ پہنچے تھے۔
لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف راہل گاندھی اور کانگریس صدر ملکارجن کھڑگے سمیت اپوزیشن اتحاد انڈیا بلاک کے 11 رہنماؤں نے انتخابی عمل میں مبینہ بے ضابطگیوں اور ووٹر لسٹوں کی خصوصی گہری نظرثانی (ایس آئی آر) کے خلاف سپریم کورٹ میں عرضی داخل کی ہے۔ عرضی عدالت کی رجسٹری میں باضابطہ طور پر درج کر لی گئی ہے اور اس کا ڈائری نمبر 64196/2026 ہے۔ دستیاب معلومات کے مطابق، عرضی 12 اکتوبر 2026 کو شام 4 بج کر 37 منٹ پر داخل کی گئی۔
راہل گاندھی اور ملکارجن کھڑگے عرضی داخل کرنے کے بعد سپریم کورٹ کے احاطے سے روانہ ہوگئے۔ اس سے قبل راہل گاندھی سینئر وکیل ابھیشیک منو سنگھوی کے ساتھ عدالت پہنچے تھے۔ عرضی میں ایس آئی آر کرانے کے فیصلے کو غیر معتبر قرار دینے کی مانگ کی گئی ہے۔ اس کے ساتھ ہی، الیکشن کمیشن کی جانب سے اپنے اختیارات کے مبینہ غلط استعمال کا معاملہ اٹھاتے ہوئے ایس آئی آر کے عمل کی قانونی حیثیت پر غور کرنے کی اپیل کی گئی ہے۔
سپریم کورٹ نے رجسٹری کو ہدایت دی ہے کہ عرضی سے متعلق ضروری کارروائی اسی دن مکمل کی جائے اور دستاویزات میں کوئی کمی ہونے کی صورت میں اسے دور کیا جائے، تاکہ معاملے کو منگل، 13 اکتوبر کو سماعت کے لیے فہرست میں شامل کیا جاسکے۔ امکان ہے کہ چیف جسٹس آف انڈیا سوریا کانت کی سربراہی والی بنچ اس معاملے کی سماعت کرے گی۔ یہ عرضی صرف راہل گاندھی کی جانب سے نہیں بلکہ انڈیا بلاک کے 11 رہنماؤں نے مشترکہ طور پر داخل کی ہے۔ ان میں راہل گاندھی، کانگریس صدر ملکارجن کھڑگے، سوگت رائے، اکھلیش یادو، تیجسوی پرساد یادو، سنجے راوت، ایم اے بے بی، ڈی راجا، مہوا ماجی، سپریا سولے اور ای ٹی محمد بشیر شامل ہیں۔
عرضی میں ہندوستان کے الیکشن کمیشن کے علاوہ چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار اور الیکشن کمشنروں سکھبیر سنگھ سندھو اور وویک جوشی کو بھی فریق بنایا گیا ہے۔ اس طرح عرضی میں مجموعی طور پر چار فریقین کو مدعا علیہ قرار دیا گیا ہے۔ اپوزیشن رہنماؤں کی جانب سے وکیل پرسنّا ایس اس معاملے میں پیروی کر رہے ہیں۔
عرضی میں انتخابی کمیشن کے کام کاج میں شفافیت اور غیر جانب داری سے متعلق سوالات اٹھائے گئے ہیں۔ اس کے علاوہ ووٹر لسٹوں کی خصوصی گہری نظرثانی کے عمل اور الیکشن کمیشن کے اختیارات کے استعمال کی قانونی حیثیت پر بھی سوال اٹھائے گئے ہیں۔ عرضی کی مکمل نقل ابھی عوامی سطح پر دستیاب نہیں ہے، اس لیے اس میں شامل تمام قانونی نکات کی تفصیلات سامنے آنا باقی ہیں۔
اس سے پہلے پیر، 12 اکتوبر کو انڈیا بلاک کے رہنماؤں نے چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے استعفے اور انتخابی عمل میں مبینہ بے ضابطگیوں کے خلاف سپریم کورٹ تک پیدل مارچ کیا۔ راہل گاندھی، پرینکا گاندھی واڈرا، ملکارجن کھڑگے، سماج وادی پارٹی کے سربراہ اکھلیش یادو اور راشٹریہ جنتا دل کے رہنما تیجسوی یادو سمیت کئی اپوزیشن رہنما اس مارچ میں شامل ہوئے۔ مارچ میں شرکت کے لیے ملک کے مختلف حصوں سے کانگریس کارکنان بھی دہلی پہنچے تھے۔









