بھوپال:23؍اگست:وزیراعلیٰ ڈاکٹر موہن یادو ریاست کے کسان بھائیوں کے تئیں خصوصی طور پر حساس ہیں۔ ریاستی حکومت کسانوں کو جدید ٹیکنالوجی کا فائدہ پہنچانے کے لیے پْرعزم ہے۔ اسی کا نتیجہ ہے کہ بلرام زرعی میلے میں جدید ٹیکنالوجی کی معلومات فراہم کرنے کے ساتھ کسانوں کو قدرتی کاشتکاری اپنانے کے لیے بھی ترغیب دی جا رہی ہے۔ وزیراعلیٰ ڈاکٹر یادو اپنی مصروفیات کے باوجود کسانوں سے ضرور گفتگو کرتے ہیں۔ چاہے نئی دہلی کی مصروفیات ہوں یا ریاست کے اضلاع میں دیگر انتظامی ذمہ داریاں، وزیراعلیٰ ڈاکٹر یادو نے ہر ضلع کے بلرام زرعی میلے میں کسانوں سے بات چیت کی ہے۔وزیراعلیٰ ڈاکٹر یادو کی پہل پر ہی کسانوں کو زراعت کی جدید ٹیکنالوجی، قدرتی کاشتکاری، زرعی میکانائزیشن اور حکومتی اسکیموں سے جوڑنے کے لیے اضلاع میں بلرام زرعی میلے منعقد کیے جا رہے ہیں۔ وزیراعلیٰ ڈاکٹر یادو نے گزشتہ روز نئی دہلی سے شیوپوری کے کسانوں سے ورچوئل گفتگو کی۔ اس سے قبل وہ اشوک نگر، گنا، ودیشا، رائے سین، بھوپال، راج گڑھ، سیہور، نرمداپورم، بیتول، ہردا، برہان پور، اجین، کھرگون سمیت مختلف مقامات پر منعقد بلرام زرعی میلوں میں ورچوئل طور پر شرکت کر چکے ہیں۔ قبائلی اکثریتی ضلع علی راج پور کے میلے میں وزیراعلیٰ ڈاکٹر یادو خود ذاتی طور پر شریک ہوئے تھے۔
وزیراعلیٰ ڈاکٹر یادو کا ماننا ہے کہ کسان کے خوشحال اور آسودہ ہونے سے ہی پورا معاشرہ خوراک اور خوشحالی سے مالا مال ہوگا۔ سرحد پر جوان اور کھیت میں کسان کا کردار یکساں ہے، دونوں ہی ملک کے لیے وقف ہیں۔ ان کی اس وابستگی کے نتیجے میں ریاستی حکومت پوری حساسیت اور سرگرمی کے ساتھ کسانوں کے مفاد میں کام کر رہی ہے۔ پورا سال کسان فلاحی سال کے طور پر منایا جا رہا ہے۔ وزیراعلیٰ ڈاکٹر یادو نے اشوک نگر کے بلرام زرعی میلے میں کہا تھا کہ کسان کا مطلب ہی خود انحصاری ہے۔ اپنے بل بوتے پر اپنے خاندان کے ساتھ پورے معاشرے کی پرورش کے لیے اناج کا پیالہ بھرنے کی صلاحیت کسانوں ہی میں ہے۔
وزیراعلیٰ ڈاکٹر یادو کی ہدایت پر کسانوں کی آمدنی بڑھانے، ان کے معیارِ زندگی کو بہتر بنانے اور ان کی مجموعی فلاح کے لیے شروع کیے گئے بلرام زرعی میلے میں ضلعی سطح پر جدید زرعی ٹیکنالوجی کے مظاہرے اور موضوع کے ماہرین سے کسانوں کی براہِ راست گفتگو کا انتظام کیا گیا ہے۔ ان پروگراموں میں کسانوں کو نئی ٹیکنالوجی اور مارکیٹ پر مبنی زرعی ماڈل کی معلومات بھی فراہم کی جا رہی ہیں۔ کسانوں کو ڈیجیٹل زرعی خدمات، موسم پر مبنی کاشتکاری، مٹی کی صحت کے انتظام، ڈرون ٹیکنالوجی، اسمارٹ آبپاشی، جدید زرعی آلات اور جدید زرعی انتظامی نظام کے بارے میں بھی معلومات دی جا رہی ہیں۔ زرعی ماہرین کسانوں کو بدلتی ہوئی آب و ہوا کے مطابق کاشتکاری کے نئے طریقوں اور خطرات سے نمٹنے کے اقدامات سے بھی آگاہ کر رہے ہیں۔
وزیراعلیٰ ڈاکٹر یادو کسانوں کو اپنی کسان آئی ڈی بنانے کے لیے بھی مسلسل ترغیب دے رہے ہیں۔ کسان آئی ڈی وزیراعظم مسٹر نریندر مودی کی جانب سے شروع کیے گئے ڈیجیٹل ایگریکلچر مشن کا اہم حصہ ہے۔ آدھار کارڈ کی طرح کسان آئی ڈی کسانوں کے لیے ایک قابلِ اعتماد ڈیجیٹل شناخت کے طور پر کام کرتی ہے۔ یہ آئی ڈی زمین کے ریکارڈ، مویشیوں کی ملکیت، بوئی گئی فصل اور حاصل ہونے والے فوائد سمیت کسانوں سے متعلق مختلف اعداد و شمار سے منسلک ہے۔وزیراعلیٰ ڈاکٹر یادو کسانوں کی صحت پر کیمیائی ادویات کے حد سے زیادہ استعمال کے پڑنے والے اثرات کے حوالے سے بھی محتاط ہیں۔ وزیراعلیٰ کسانوں کو مسلسل قدرتی کاشتکاری اپنانے کی ترغیب دے رہے ہیں۔ قدرتی کاشتکاری صرف کاشتکاری کا ایک طریقہ نہیں بلکہ قدرت کے ساتھ توازن قائم کرنے کا ذریعہ بھی ہے۔ یہ مٹی، پانی اور ماحول کو محفوظ رکھتے ہوئے پیداوار بڑھانے کا راستہ ہے۔ قدرتی کاشتکاری سے مٹی کی پانی جذب اور برقرار رکھنے کی صلاحیت بڑھتی ہے۔ کم آبپاشی میں بھی فصل اچھی ہوتی ہے۔ موسمیاتی تبدیلی کے دور میں یہ آنے والی نسلوں کے لیے پانی بچانے کی ایک بڑی مہم ہے۔ قدرتی کاشتکاری کیمیائی کاشتکاری کی بڑھتی ہوئی لاگت سے کسانوں کو راحت دیتی ہے۔ یہ کاشتکاری کو منافع بخش اور پائیدار بناتی ہے۔ اس سے کیمیائی کھاد اور کیڑے مار ادویات پر انحصار کم ہوتا ہے۔ پیداواری لاگت کم ہونے سے خالص آمدنی بڑھتی ہے۔ یہ چھوٹے کسانوں کے لیے خاص طور پر فائدہ مند ہے۔ قدرتی کاشتکاری کیمیائی کھاد اور کیڑے مار ادویات کے مضر اثرات کو کم کرتی ہے۔ زہریلے مادوں سے پاک ماحول میں کھیت اور کسان دونوں محفوظ رہتے ہیں۔ صحت مند کسان ہی خوشحال ملک کی تعمیر کرتا ہے۔









