بھوپال:23؍اگست:مدھیہ پردیش اردو اکادمی، سنسکرتی پریشد، محکمہ ثقافت کے زیرِ اہتمام اور ضلع ادب گوشہ، دیواس کے ذریعے “سلسلہ اور تلاشِ جوہر” کے تحت ادبی و شعری نشست کا انعقاد 23 اگست 2026ء کو بعد دوپہر 1:30 بجے ورشٹھ ناگرک سنستھا بھون، ملہار اسمرتی کیمپس، دیواس میں ضلع کوآرڈینیٹر معین خان معین کے تعاون سے کیا گیا۔
دیواس میں منعقدہ سلسلہ کے لیے مدھیہ پردیش اردو اکادمی کی ڈائریکٹر ڈاکٹر نصرت مہدی نے اپنے پیغام میں کہا کہ ’’سلسلہ اور تلاشِ جوہر‘‘ کا بنیادی مقصد ریاست کے تمام اضلاع میں اردو زبان و ادب کی تخلیقی سرگرمیوں کو فروغ دینا اور نئے تخلیق کاروں کو پلیٹ فارم مہیا کرنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اردو ادب نے ہمیشہ محبت، انسانیت، بھائی چارے اور سماجی ہم آہنگی کو اپنے اظہار کی بنیاد بنایا ہے۔ اس نوعیت کے پروگرام ادبی مکالمے کو مستحکم کرنے کے ساتھ ساتھ نئی نسل کو اردو ادب سے جوڑنے میں بھی اہم کردار ادا کرتے ہیں۔”
دیواس ضلع کے کوآرڈینیٹر معین خان معین نے بتایا کہ سلسلہ کے تحت دوپہر 1:30 بجے ادبی و شعری نشست کا انعقاد ہوا، جس کی صدارت سینئر ادیب و شاعر وکرم سنگھ گوہل نے کی، جب کہ مہمانانِ ذی وقار کے طور پر فرید خان، گنگا سنگھ سولنکی، گرمیت سنگھ اور پریت پال سنگھ اسٹیج پر موجود رہے۔ اس موقع پر وکرم سنگھ گوہل نے “اردو شاعری اور ادب میں سماجی ہم آہنگی” کے موضوع پر اپنے خیالات کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ ندوستان کی مشترکہ تہذیب کو وجود بخشنا اور اسے زندہ و تابندہ رکھنا دراصل اردو کا سب سے بڑا تاریخی کارنامہ ہے۔ گزشتہ تین صدیوں کے دوران اردو شاعری نے اس قومی اور تہذیبی ذمے داری کو مسلسل اور پوری وفاداری کے ساتھ نبھایا ہے۔ میر و غالب کی فکری وراثت سے لے کر داغ و حسرت موہانی تک، اور منشی پریم چند کی تخلیقی بصیرت سے لے کر جوش ملیح آبادی تک—تمام اہلِ قلم نے ایک ہم آہنگ، کثیر جہتی اور متحدہ ہندوستان کے خواب کو حقیقت کا روپ دیا۔ اردو کبھی تعصب یا تفریق کی زبان نہیں رہی؛ اس کا بنیادی خمیر ہمیشہ قومی یکجہتی، یگانگت اور اخوت سے عبارت رہا ہے۔ تقسیم کی روح فرسا تباہی کے باوجود اگر اس ملک کی یکجہتی اور گنگا جمنی تانا بانا سلامت رہا تو اس میں اردو کا کردار مرکزی اور ناقابلِ فراموش ہے۔ یہ ایک تاریخی سچائی ہے کہ تحریکِ آزادی میں جن ولولہ انگیز نعروں نے قوم کو بیدار کیا، ان میں سے بیشتر اسی اردو زبان کی ہی دین تھے۔
شعری نشست میں جن شعرا نے اپنا کلام پیش کیا، ان کے نام اور منتخب اشعار درج ذیل ہیں:
سوزِ الفت ہو اگر دونوں طرف مدہم سا
عشق تب جا کے کہیں دل کو مزا دیتا ہے
— اکبر دیواسی
لبوں پہ پیاس مگر دل سمندروں جیسا
مزاج پایا ہے ہم نے قلندروں جیسا
— عظیم دیواسی
ان کو مٹا دے غارت کر دے یا مولا
جو بھارت میں آگ لگاتے رہتے ہیں
صلاح الدین سلیس
کیا پیاس ہے معین کی دریا بھی جان لے
ساحل پہ چھوڑ آیا ہوں تشنہ لبی کا بوجھ
— معین خان معین
ایسے رہتی ہے مری ماں کی دعا ساتھ مرے
جیسے مٹی کسی پودے کو بڑا کرتی ہے
— گلریز علی
جب کوئی بھی کمی نہیں لگتی
زندگی زندگی نہیں لگتی
— جے پرکاش جے
یہ بھی ہو سکتا ہے کچھ دینے کو آیا ہو تجھے
در نہ اپنا بند کر ہاتھوں میں کاسہ دیکھ کر
— عارف وارثی
چوم کر پھانسی کا پھندا جاں نثاروں نے کہا
اے مرے ہندوستاں تیری محبت مرحبا
— شاداب اشرفی
یہ عبادت روز صبح و شام ہونا چاہیے
دل میں تیری یاد لب پر جام ہونا چاہیے
— چاند سونی
جیون ہے سمے کے بہاؤ میں
ہر مانو ہے اب کے تناؤ میں!
— ڈاکٹر اقبال مودی
ملک پر جب بھی کبھی آنچ اگر آئے ادیب
اپنی جاں دے کے وطن اپنا بچایا جائے
— ادیب راحیل
جنون و زعم کی زد میں کبھی کبھی انساں
خود اپنے ہاتھ سے پگڑی اچھال لیتا ہے
— ڈاکٹر شریف جمال
عشق ایک طرفہ ہو یا ہو بے وفا محبوب
زخم ایک جیسے ہیں درد کم زیادہ ہے
— راجیش راج
محبت سے بھرا گلدان لکھ دے
ترنگے میں ہے اپنی جان لکھ دے
ذرا سرحد پہ تنہا کے لہو سے
بہت پیارا ہے ہندوستان لکھ دے
— زبیر تنہا
ان کے علاوہ انجم دیواسی، سریندر سنگھ راجپوت، امر پریت سنگھ کھنوجا،دیو نرنجن، ساحل سلیمانی اور مقصود شاہ نے بھی اپنا کلام پیش کیا۔ پروگرام کی نظامت کے فرائض جے پرکاش جے نے انجام دیے۔ آخر میں ضلع کوآرڈینیٹر معین خان معین نے تمام معزز مہمانوں، شعرا اور سامعین کا شکریہ ادا کیا۔









