نئی دہلی 22جولائی:نیٹ پیپر لیک اور امتحانات میں بے ضابطگی کے خلاف طلبا کی تحریک تو جاری ہے ہی، کانگریس کے سرکردہ لیڈران اس معاملہ کو زور و شور سے پارلیمنٹ میں بھی اٹھا رہے ہیں۔ آج کانگریس جنرل سکریٹری و رکن پارلیمنٹ پرینکا گاندھی نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کچھ اہم باتیں سامنے رکھیں۔ انھوں نے کہا کہ ’’ہم (لوک سبھا میں) تحریک التوا کا مطالبہ کر رہے ہیں، تاکہ ٹھیک طرح سے بحث ہو سکے۔‘‘ وہ مزید کہتی ہیں کہ ’’اگر ’وندے ماترم‘ پر 8 گھنٹے کی بحث ہو سکتی ہے، تو ہم طویل مدت تک بہتر انداز میں تعلیمی نظام پر بھی بات کر سکتے ہیں۔‘‘ پرینکا گاندھی نے مودی حکومت پر تعلیمی نظام کے ساتھ کھلواڑ کرنے کا سنگین الزام بھی عائد کیا۔ انھوں نے کہا کہ ’’جہاں مودی حکومت ہمیشہ سے سیاسی کھیل کھیلتی ہے، وہیں میڈیا بھی اصل بات لوگوں کو نہیں بتاتی۔‘‘ انھوں نے میڈیا سے اپنی ناراضگی کا اظہار ان لفظوں میں بھی کیا کہ ’’کیا ہندوستان دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت ہے؟ میڈیا کو اب سچ بولنا اور دکھانا شروع کر دینا چاہیے۔‘‘ دوسری طرف کانگریس صدر اور راجیہ سبھا میں حزب اختلاف کے قائد ملکارجن کھڑگے نے بھی راجیہ سبھا میں نیٹ امتحان سے متعلق وسیع بحث کا مطالبہ پیش کیا۔ انھوں نے راجیہ سبھا کے چیئرمین سے مخاطب ہوتے ہوئے کہا کہ ’’ہم ’رول 267‘ کے تحت نیٹ امتحان کے بارے میں ایوان میں بحث کرنا چاہتے ہیں۔ اس معاملہ پر غیر جانبدارانہ بحث تبھی ہو پائے گی، جب وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان استعفیٰ دیں گے۔‘‘ حالانکہ راجیہ سبھا چیئرمین نے ان کے اس مطالبہ کو قبول نہیں کیا۔ بعد میں کھڑگے نے اس تعلق سے میڈیا اہلکاروں کو بتایا کہ ’’ہم نے ’رول 267‘ میں نوٹس دیا اور چیئرمین سے بحث کی اجازت مانگی، لیکن وہ تیار نہیں ہوئے اور کہا کہ کسی دیگر رول میں آپ اپنا مطالبہ رکھ سکتے ہیں۔‘









