نئی دہلی 22جولائی: دہلی ہائی کورٹ نے 20 جولائی کو ’پارلیمنٹ مارچ‘ کے دوران طلبہ اور نوجوانوں پر پولیس کی وحشیانہ کارروائی کے خلاف داخل عرضیوں پر مرکزی حکومت اور دہلی پولیس کو نوٹس جاری کر جواب طلب کیا ہے۔ ساتھ ہی عدالت نے واقعے سے منسلک تمام ویڈیوز بھی محفوظ رکھنے کو کہا ہے۔ دہلی ہائی کورٹ کے چیف جسٹس ڈی کے اپادھیائے اور جسٹس تیجس کریا کی بنچ نے ان 2 درخواستوں پر جواب طلب کیا ہے جن میں الزام عائد کیا گیا ہے کہ 20 جولائی کو ’پارلیمنٹ مارچ‘ کے دوران مظاہرین پر ضرورت سے زیادہ طاقت کا استعمال کیا گیا۔ بنچ نے افسران کو ہدایت دی ہے کہ وہ پولیس کی کارروائی سے متعلق تمام ضروری ریکارڈز کو محفوظ رکھیں، جس میں سی سی ٹی وی کیمروں کی فوٹیج اور دیگر ویڈیو گرافی بھی شامل ہیں۔ عرضی گزاروں کی طرف سے پیش ہونے والے سینئر وکلاء این ہری ہرن، وکاس سنگھ اور گوپال شنکر نارائنن نے دلیل دی کہ پولیس نے مظاہرین پر (جن میں خواتین اور بچے بھی شامل تھے) ضرورت سے زیادہ طاقت کا استعمال کیا۔ واقعے کی جانچ کی درخواست کرتے ہوئے سینئر وکلاء نے کہا کہ مظاہرین قومی اہلیت و داخلہ ٹیسٹ (نیٹ) میں بے ضابطگیوں کے خلاف پرامن احتجاج کے اپنے بنیادی حق کا استعمال کر رہے تھے۔ ایڈیشنل سالیسیٹر جنرل ایس وی راجو نے کہا کہ یہ عرضیاں سوشل میڈیا پوسٹس پر مبنی ہیں اور سماعت کے قابل نہیں ہیں۔تمام کے دلائل سننے کے بعد بنچ نے مفاد عامہ کی عرضیوں (پی آئی ایل) پر نوٹس جاری کرتے ہوئے افسران کو جوابی حلف نامہ داخل کرنے کے لیے 4 ہفتوں کا وقت دیا۔ عدالت نے حکم دیا کہ ’’مدعا علیہان کی طرف سے 4 ہفتوں کے اندر جواب داخل کیا جائے۔‘‘‘ عدالت نے مزید کہا کہ ’’اس دوران ہم ہدایت دیتے ہیں کہ رٹ درخواستوں میں بتائے گئے واقعے سے متعلق ضروری ریکارڈز (جس میں سی سی ٹی وی فوٹیج اور ویڈیو گرافی شامل ہے) دہلی پولیس یا حکومت ہند کے معیاری طریقہ کار (ایس او پی) کے مطابق محفوظ رکھے جائیں۔ اس معاملے کی آئندہ سماعت 11 ستمبر کو ہوگی۔‘‘