بھوپال، 13 اپریل:مدھیہ پردیش کانگریس کمیٹی کے صدر جیتو پٹواری نے ریاست کی بی جے پی حکومت پر سنگین الزامات عائد کرتے ہوئے سوال اٹھایا ہے کہ انہیں جان بوجھ کر رائیسین میں منعقدہ قومی زرعی میلے میں جانے سے کیوں روکا جا رہا ہے۔ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ودیشا دورے کے دوران کسانوں نے انہیں بتایا کہ گندم کی خریداری وقت پر نہ ہونے کی وجہ سے تقریباً 20 لاکھ کوئنٹل گندم 2000 روپے سے بھی کم قیمت پر فروخت کرنی پڑی، جس سے کسانوں کو فی کوئنٹل 400 سے 500 روپے کا نقصان ہوا ہے۔ پٹواری کے مطابق، وہ بطور کسان اور اپوزیشن لیڈر اس میلے میں جدید ٹیکنالوجی کو دیکھنے اور سمجھنے کے لیے جانا چاہتے تھے تاکہ کسانوں کے مسائل کو بہتر طریقے سے اجاگر کر سکیں۔
جیتو پٹواری نے بتایا کہ انہوں نے انتظامیہ، کلکٹر اور مرکزی وزیر زراعت شیواراج سنگھ چوہان کے عملے سے باقاعدہ اجازت طلب کی تھی اور یقین دلایا تھا کہ وہ اکیلے جائیں گے اور کسی قسم کی بدنظمی پیدا نہیں کریں گے۔ اس کے باوجود اے ڈی جی سطح کے افسر نے فون کر کے انہیں میلے میں نہ جانے کا مشورہ دیا اور راستوں پر بھاری پولیس فورس تعینات کر دی گئی۔ انہوں نے حیرت کا اظہار کیا کہ جب حکومت اسے ’کسان کلیان ورش‘ (کسان بہبود سال) کے طور پر منا رہی ہے، تو ایک کسان کے بیٹے کو ہی زرعی نمائش دیکھنے سے کیوں روکا جا رہا ہے؟انہوں نے مزید کہا کہ اپوزیشن کا کام صرف تنقید کرنا نہیں بلکہ مثبت تجاویز دینا بھی ہے۔ وہ میلے میں جا کر جدید زراعت کے طریقوں کو سمجھنا چاہتے ہیں تاکہ کسانوں کی آمدنی بڑھانے میں اپنا کردار ادا کر سکیں۔ پٹواری نے انتظامیہ کے اس رویے کو حکومت کی بدنیتی اور کسان دشمنی کی علامت قرار دیتے ہوئے کہا کہ پولیس کے ذریعے انہیں سرکٹ ہاؤس میں روکے رکھنا جمہوری اقدار کے منافی ہے۔