بھوپال:28؍جون:ریاست میں زرعی فلاحی سال کے دوران جب کسانوں کی خوشحالی پر خصوصی توجہ دی جا رہی ہے، مدھیہ پردیش کو ایک بڑی کامیابی حاصل ہوئی ہے۔ مدھیہ پردیش کی چار زرعی پیداواروں ستاہی کٹکی، ناگدمن کٹکی، بینگنی ارہر اور چھتریہ دھان کو جی آئی ٹیگ مل گیا ہے۔ مہاکوشل کے کسانوں نے خوشی کا اظہار کیا ہے۔ ان زرعی مصنوعات کو عالمی شناخت حاصل ہوگی۔ وزیر اعلیٰ ڈاکٹر موہن یادو کی قیادت میں ریاستی حکومت کسانوں کی معاشی خوشحالی بڑھانے کے لیے پْرعزم ہے۔ ان کی آمدنی دوگنی کرنے کے لیے خصوصی پروگرام تیار کیے جا رہے ہیں۔ نامیاتی، قدرتی اور روایتی کاشتکاری کے تحفظ اور فروغ پر خصوصی توجہ دی جا رہی ہے۔
کسان بہبود اور زرعی ترقی محکمہ کی رہنمائی، مدھیہ پردیش ریاستی زرعی مارکیٹنگ (منڈی) بورڈ کے تعاون، اور جواہر لال نہرو زرعی یونیورسٹی، جبل پور کی تکنیکی اور سائنسی کوششوں سے ریاست کی چار منفرد زرعی پیداواروں—ستاہی کٹکی، ناگدمن کٹکی، بینگنی ارہر اور چھتریہ دھان—کو جغرافیائی اشاریہ (جی آئی) ملنا ایک بڑی کامیابی ہے۔
اب ان مصنوعات کو قومی اور بین الاقوامی سطح پر نئی شناخت ملے گی۔ جی آئی ٹیگ ملنے سے ان زرعی پیداواروں کو قانونی تحفظ حاصل ہوگا۔ ان کی برانڈ ویلیو اور بازار میں مسابقتی حیثیت میں اضافہ ہوگا، کسانوں کو بہتر قیمت ملے گی اور زرعی برآمدات کو بھی فروغ حاصل ہوگا۔
یہ چاروں زرعی پیداواریں ریاست کے قبائلی اکثریتی علاقوں سے تعلق رکھتی ہیں۔ اس سے خاص طور پر مہاکوشل خطے کے کسانوں کو وسیع فائدہ ہوگا۔ ان مصنوعات کی قومی اور بین الاقوامی منڈیوں میں مانگ بڑھنے سے کسانوں کی آمدنی میں اضافہ ہوگا، خطے کی روایتی زرعی طریقوں اور حیاتیاتی تنوع کا تحفظ ہوگا، اور زرعی بنیاد پر پروسیسنگ، قدر میں اضافہ اور برآمدات کو رفتار ملے گی۔
اس سے قبل سیہور شربتی گیہوں اور ریوا سندرجا آم کو جی آئی ٹیگ دلانے میں کسان بہبود محکمہ اور مدھیہ پردیش ریاستی زرعی مارکیٹنگ (منڈی) بورڈ نے اہم کردار ادا کیا تھا۔یہ کامیابی ریاست کی زرعی وراثت کو عالمی شناخت دلانے کے ساتھ ساتھ کسانوں کی آمدنی بڑھانے میں بھی اہم کردار ادا کرے گی۔کسان بہبود اور زرعی ترقی کے وزیر مسٹر ایندل سنگھ کنسانہ نے خوشی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ دیگر زرعی پیداواروں کو بھی جی آئی ٹیگ دلانے کی پہل کی جائے گی۔
مستقبل میں بھی ریاست کی دیگر منفرد زرعی پیداواروں کے جی آئی اندراج کے لیے مسلسل کام جاری رکھا جائے گا۔مسٹر نشانت ورواڑے، سکریٹری، کسان بہبود اور زرعی ترقی محکمہ نے کہا کہ جی آئی ٹیگ حاصل ہونے سے خاص طور پر مہاکوشل خطے کے کسانوں کو نئی منڈیاں، بہتر قیمتیں اور برآمد کے مواقع حاصل ہوں گے۔ منڈی بورڈ مستقبل میں بھی ریاست کی دیگر منفرد زرعی پیداواروں کے جی آئی اندراج اور مارکیٹنگ کے فروغ کے لیے فعال تعاون فراہم کرتا رہے گا۔ مدھیہ پردیش ریاستی زرعی مارکیٹنگ (منڈی) بورڈ کے منیجنگ ڈائریکٹر مسٹر کمار پروشوتّم نے کہا کہ منڈی بورڈ ایسے تعمیری اور کسانوں کو معاشی فائدہ پہنچانے والے پروگراموں میں فعال تعاون جاری رکھے گا۔
ستاہی کٹکی:ستاہی کٹکی ایک کم مدت (60 دن) میں تیار ہونے والی ‘لٹل ملیٹ (چھوٹا باجرہ) کی مقامی قسم ہے۔ یہ بارش پر منحصر علاقوں اور تاخیر سے بوائی کی صورتِ حال کے لیے موزوں ہے۔ یہ خشک سالی، نمی کی کمی، اور اہم کیڑوں (شوٹ فلائی)، ‘گرین اسماٹ اور ‘براؤن اسپاٹ جیسی بیماریوں کا مقابلہ کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ اس طرح یہ کسانوں کو مستحکم پیداوار فراہم کرنے میں مددگار ثابت ہوتی ہے۔ ستاہی کٹکی کی درمیانی اونچائی اور مضبوط تنے کی وجہ سے فصل گرنے کا مسئلہ پیش نہیں آتا۔ اسے پہاڑی، اونچی نیچی اور کمزور زمینوں میں بھی کاشت کیا جا سکتا ہے۔ ڈنڈوری کے ‘بیگا اور ‘گونڈ قبائل کے کسانوں کے لیے یہ اچھی آمدنی کا ذریعہ بن سکتی ہے۔
ڈنڈوری میں ‘ستاہی کٹکی کی کاشت 10,395 ہیکٹر رقبے تک پھیل چکی ہے اور 10 تا 11 کوئنٹل فی ہیکٹر کی مستحکم پیداوار نے اس علاقے میں لوگوں کی روزی روٹی، خوراک اور غذائی تحفظ میں مدد کی ہے۔ قبائلی اضلاع کے تقریباً 60,000 قبائلی کسان، خاص طور پر ڈنڈوری، منڈلا، انوپ پور، چھندواڑہ، شہڈول، امریہ، بالاگھاٹ اور جبل پور کے بعض حصوں کے کسان پیداوار بڑھا کر معاشی فائدہ حاصل کر سکتے ہیں۔ ڈنڈوری کے پہاڑی اور دشوار گزار علاقوں کے 54 دیہات کے کسانوں کو منافع حاصل ہوا ہے۔ ان علاقوں میں دوسری ربیع فصلوں کی کاشت نہیں ہوتی۔
ناگدمن کٹکی:ناگدمن کٹکی ضلع ڈنڈوری میں کاشت کی جانے والی کٹکی کی ایک منفرد مقامی قسم ہے۔ یہ اپنی دواؤں جیسی خصوصیات اور اعلیٰ غذائی قدر کے لیے مشہور ہے۔بینگنی ارہر دراصل ارہر کی ایک خاص قسم ہے۔ اس میں پودے یا پھلیوں پر بینگنی رنگ کی جھلک نظر آتی ہے۔ اس میں وافر مقدار میں پروٹین پایا جاتا ہے۔ بیماریوں سے مقابلہ کرنے کی غیر معمولی صلاحیت ہوتی ہے۔ اچھی دیکھ بھال کی صورت میں فی ہیکٹر 15 سے 20 کوئنٹل تک پیداوار حاصل کی جا سکتی ہے۔









