ایمسٹرڈیم، 28 جون (یو این آئی): لاس اینجلس 2028 اولمپک گیمز کی عالمی دوڑ میں میزبان امریکہ کے بعد بیلجیئم کی ‘ریڈ لائنز کوالیفائی کرنے والی پہلی مردوں کی ٹیم بن گئی ہے۔ ہالینڈ کے خلاف ایک انتہائی اہم اور بڑے مقابلے میں شاندار فتح حاصل کرنے کے بعد، بیلجیئم کی مینز ہاکی ٹیم نے ایک میچ باقی رہتے ہوئے ہی ایف آئی ایچ ہاکی پرو لیگ 2025-26 کا خطاب اپنے نام کر لیا ہے۔ 2021 کے بعد یہ دوسرا موقع ہے جب بیلجیئم کی ٹیم نے اس باوقار پوڈیم پر پہلا مقام حاصل کیا ہے۔اولمپک کوالیفیکیشن کے موجودہ قوانین کے مطابق، 2025-26 اور 2026-27 کے سیزن میں ایف آئی ایچ ہاکی پرو لیگ جیتنے والی چیمپیئن ٹیموں کو لاس اینجلس 2028 اولمپکس کا براہِ راست ٹکٹ دیا جاتا ہے۔ ہفتے کی رات اس چیمپیئن شپ کو اپنے نام کر کے ریڈ لائنز نے عالمی کھیلوں کے اس سب سے بڑے میلے کے آغاز سے تقریباً دو سال پہلے ہی لاس اینجلس میں اپنی موجودگی کو یقینی بنا لیا ہے۔اس سیزن میں بیلجیئم کی شاندار کامیابی ان کے تجربہ کار اسکواڈ کی بہترین حکمتِ عملی اور گہرائی کو ظاہر کرتی ہے۔ متعدد براعظموں میں ایک انتہائی مصروف اور تھکا دینے والے بین الاقوامی شیڈول کے باوجود، ٹیم نے اپنے بہترین دفاع اور جارحانہ کھیل کے شاندار امتزاج سے حریف ٹیموں کو بے بس کر دیا۔ جہاں انگلینڈ، آسٹریلیا اور ہالینڈ جیسی دیگر مضبوط ٹیمیں سیزن کے دوران اہم پوائنٹس کھوتی رہیں، وہیں بیلجیئم نے پورے سیزن میں ناقابلِ یقین تسلسل کا مظاہرہ کیا اور اسے پورے ٹورنامنٹ میں صرف ایک میچ میں شکست کا سامنا کرنا پڑا۔
ایف آئی ایچ کے صدر طیب اکرام نے ریڈ لائنز کو اس یادگار سیزن پر مبارکباد دیتے ہوئے کہا، “عالمی ہاکی فیملی کی طرف سے، میں بیلجیئم کی مینز ٹیم کو ایف آئی ایچ ہاکی پرو لیگ 2025-26 کا خطاب جیتنے پر دلی مبارکباد پیش کرتا ہوں۔ اس قدر سخت مقابلے میں پرو لیگ کا خطاب جیتنا ٹوکیو 2020 اولمپک چیمپیئنز کا ایک اور ناقابلِ یقین کارنامہ ہے۔” انہوں نے مزید کہا، شاندار انداز میں لاس اینجلس 2028 اولمپکس کا ٹکٹ پکا کر ریڈ لائنز نے ایک بار پھر ثابت کر دیا ہے کہ وہ دنیا کی بہترین ٹیموں میں سے ایک کیوں ہیں۔ ہم لاس اینجلس میں ان کا شاندار کھیل دیکھنے کے لیے بے حد پرجوش ہیں۔اگرچہ اس نسل کے شاندار ریکارڈ میں ایک اور باوقار ٹرافی کا اضافہ ایک بڑی کامیابی ہے، لیکن اولمپکس کے لیے فوری کوالیفائی کر لینا کھلاڑیوں اور کوچنگ اسٹاف کے لیے سب سے بڑا انعام ہے۔
کروشیا کی نظریں ورلڈ کپ کی پرانی کامیابی دہرانے پر مرکوز، گھانا کو ہرا کر ناک آؤٹ میں پیش قدمی
فلاڈیلفیا (امریکہ)، 28 جون (یو این آئی): کروشیا کی فٹ بال ٹیم کے ہیڈ کوچ زلاٹکو ڈالچ نے کہا ہے کہ ورلڈ کپ کے ناک آؤٹ مرحلے (راؤنڈ آف 32) کے لیے کوالیفائی کرنا محض “ایک چھوٹا سا قدم” ہے اور ٹیم کے لیے حالیہ ورلڈ کپ جیسی کامیابی کو دہرانا ایک بڑا چیلنج ہوگا۔ انہوں نے یہ بات ہفتے کے روز گھانا کے خلاف کروشیا کی 2-1 سے فتح کے بعد کہی۔اس اہم جیت کے بعد کروشیا کی ٹیم گروپ ایل میں انگلینڈ کے بعد دوسرے نمبر پر رہی۔ ٹورنامنٹ کے اپنے پہلے میچ میں شکست کا سامنا کرنے کے بعد، کروشیا نے شاندار واپسی کی اور پاناما اور گھانا کے خلاف مسلسل دو میچ جیت کر مسلسل تیسری بار ورلڈ کپ کے ناک آؤٹ مرحلے میں جگہ پکی کر لی۔میچ کے بعد بات کرتے ہوئے ہیڈ کوچ ڈالچ نے کہا، “یہ ایک اہم فتح ہے، لیکن یہ صرف ایک چھوٹا سا قدم ہے۔ ابھی ہمارے سامنے کئی مشکل میچز باقی ہیں۔ ہمیں مسلسل محنت کرنی ہوگی کیونکہ صرف اس ایک نتیجے سے کچھ حاصل نہیں ہونے والا۔” انہوں نے مزید کہا کہ گزشتہ دو ورلڈ کپ میں کروشیا کی شاندار کارکردگی کی وجہ سے شائقین کی توقعات بہت زیادہ بڑھ گئی ہیں۔
ڈالچ نے کہا، “ایک بار کامیابی حاصل کرنا آسان ہوتا ہے لیکن اسے بار بار دہرانا بہت مشکل ہے۔ ہم نے قطر ورلڈ کپ میں یہ کر کے دکھایا تھا اور اس سال بھی ہماری کوشش یہی ہوگی، اگرچہ یہ سفر بالکل آسان نہیں ہوگا۔”

ژنہوا نیوز ایجنسی کے مطابق، کوچ ڈالچ نے ٹیم کے 40 سالہ تجربہ کار کپتان لوکا موڈرچ کی خاص طور پر تعریف کی، جنہوں نے اپنا 201واں انٹرنیشنل میچ کھیلتے ہوئے ایک بہترین کارنر کک کے ذریعے ٹیم کے وننگ گول میں اہم کردار ادا کیا۔ ڈالچ نے کہا، “یہ لوکا کا کردار اور ان کی توانائی ہے۔ وہ کبھی ہار نہیں مانتے۔ انہوں نے گول کرنے میں مدد کی، دو بار بہترین ڈیفنس کیا اور میچ کے اختتام پر وہ آغاز سے بھی زیادہ مضبوط نظر آئے۔ وہ جانتے ہیں کہ یہ ان کا آخری ورلڈ کپ ہو سکتا ہے، اس لیے وہ اس کا اختتام بہترین انداز میں کرنا چاہتے ہیں۔”

واضح رہے کہ اب راؤنڈ آف 32 کے ایک بڑے اور سنسنی خیز مقابلے میں 2 جولائی کو کروشیا کا سامنا پرتگال سے ہوگا۔