اسلام آباد 23اپریل: امریکہ-ایران مذاکرات کی امید میں پاکستان کی راجدھانی اسلام آباد گزشتہ 10 دنوں سے لاک ڈاؤن کی صورت میں ہے۔ اسلام آباد میں سڑکیں بند ہیں، بازارا ٹھپ پڑے ہیں اور چاروں طرف سیکورٹی فورسز کے پہرے ہیں۔ اسلام آباد کے رہنے والے فداء اللہ امریکہ-ایران مذاکرات کی بات سن کر ہی بھڑک اٹھتے ہیں اور پاکستانی حکمرانوں کو تنقید کا نشانہ بنانے سے بھی گریز نہیں کرتے ہیں۔ مہنگائی سے پریشان پاکستان کی غریب عوام کا کام کاج اس سیکورٹی لاک ڈاؤن کی وجہ سے ٹھپ ہو گیا ہے اور کمائی کا سارا راستہ بند ہو گیا ہے۔ اسلام آباد میں امریکہ-ایران مذاکرات کی غیر یقینی صورتحال کے درمیان سیکورٹی سخت کر دی گئی ہے۔ ان حالات سے پریشان مقامی شہری محمد صابر نے کہا کہ ’’عوام مہنگائی کی وجہ سے پریشان ہے، کبھی بول رہے ہیں ٹرمپ آ رہا ہے اور کبھی بول رہے ہیں ایرانی صدر آ رہے ہیں۔ بھائی آئیں مذاکرات کریں اور یہ سب ختم کریں۔ پاکستانی عوام کدھر جائے بے چارے وہ تو بھوکے مرتے رہیں گے، نہ کوئی کاروبار ہے اور نہ کوئی کام۔‘‘ پورے اسلام آباد میں لاک ڈاؤن لگا ہوا ہے۔ یہاں کی سڑکیں کئی دنوں سے خالی پڑی ہیں، دکانیں بند ہیں اور پبلک ٹرانسپورٹ بھی روک دی گئی ہے۔ افسران اور دفاتر میں کام کرنے والوں سے گھر سے ہی کام کرنے کو کہا گیا ہے، جبکہ مزدوروں کے پاس کوئی کام نہیں بچا ہے۔ سڑکوں پر صرف فوج اور پولیس کی وردی پہنے لوگ ہی نظر آ رہے ہیں۔ کئی لوگوں کو ایسا لگ رہا ہے جیسے وہ پھر سے کووڈ-19 کے دور میں لوٹ آئے ہوں۔ لوگوں کے لیے یہ بے حد سخت اور غیر معینہ مدت تک چلنے والی پابندیاں اب پریشانی اور معاشی تنگی کا سبب بن گئی ہیں۔









