واشنگٹن،3 اپریل (یواین آئی ) دی انٹرسیپٹ کی جانب سے دعویٰ کیا گیا ہے کہ ایران جنگ میں سیکڑوں امریکی فوجی ہلاک یا زخمی ہوئے ہیں۔ غیر ملکی ذرائع ابلاغ کے مطابق دی انٹرسیپٹ نے دعویٰ کیا ہے کہ ٹرمپ انتظامیہ مشرق وسطیٰ میں اپنے جانی نقصانات کو چھپا رہی ہے۔ رپورٹ میں انکشاف ہوا ہے کہ ایران جنگ کے دوران زخمی امریکی فوجیوں کی اصل تعداد سرکاری اعداد و شمار سے کہیں زیادہ ہے۔ دی انٹرسیپٹ کے مطابق کنٹریکٹرز سمیت امریکی و امریکی اڈوں پر موجود افراد کی تعداد 13 ہزار 600 آ رہی ہے جبکہ امریکی بیسز پر موجود کنٹریکٹرز سمیت ہلاک اور زخمی فوجیوں کی تعداد 13 ہزار 600 ہے۔ دوسری جانب امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ نے غیر متوقع طور پر امریکی آرمی چیف آف اسٹاف جنرل رینڈی جارج کو ان کے عہدے سے برطرف کر دیا ہے۔
رپورٹ میں بتایا گیا کہ جنگی حالات کے دوران کسی جنرل کو عہدے سے ہٹانا امریکی تاریخ میں تقریباً بے مثال عمل ہے۔ پینٹاگون نے تصدیق کی ہے کہ جنرل رینڈی جارج “فوری طور پراپنے عہدے سے ریٹائر ہو رہے ہیں، حالانکہ ان کی مدتِ ملازمت میں ایک سال سے زائد کا عرصہ باقی تھا۔ ترجمان شان پارنیل کا کہنا ہے کہ یہ تبدیلی صدر ٹرمپ کے وژن کے مطابق فوج کو جدید خطوط پر استوار کرنے کے لیے کی گئی ہے، وزیر دفاع ایسے افسران کو سامنے لانا چاہتے ہیں جو صدر ٹرمپ کی پالیسیوں پر سختی سے عملدرآمد کر سکیں۔
وزیر دفاع نے صرف آرمی چیف ہی نہیں بلکہ دو دیگر اہم جرنیلوں کو بھی فارغ کر دیا ہے جن میں آرمی ٹرانسفارمیشن اینڈ ٹریننگ کمانڈ کے سربراہ جنرل ڈیوڈ ہوڈن اور سربراہ آرمی چیپلن کور میجر جنرل ولیم گرین شامل ہیں۔









