سیہور، 12 ستمبر 2026ء۔ جمعیۃ علماء کے زیرِ اہتمام بروز جمعہ، 11 ستمبر 2026ء کو جامع مسجد چھاؤنی، سیہور میں ایک اہم جلسہ بعنوان ’’اصلاحِ معاشرہ‘‘ منعقد ہوا۔ جلسہ میں جمعیۃ علماء مدھیہ پردیش کے صدر حاجی محمد ہارون نے خصوصی شرکت کی، جبکہ جلسہ کی صدارت حضرت مولانا مفتی عبدالرحیم صاحب قاسمی، نائب صدر جمعیۃ علماء مدھیہ پردیش نے فرمائی۔
جلسہ میں جمعیۃ علماء ہند کے شعبۂ اصلاحِ معاشرہ کے سینئر آرگنائزر حضرت مولانا محمد خالد صاحب گیاوی نے بطورِ مہمانِ خصوصی شرکت کی اور اصلاحِ معاشرہ کی ضرورت، اہمیت اور موجودہ دور میں اس سلسلے میں علماء، ائمہ، سماجی ذمہ داران اور عام مسلمانوں کے کردار پر تفصیلی روشنی ڈالی۔
جلسہ کا باقاعدہ آغاز مدرسہ جامعہ محمودیہ کے طالب علم مولانا انس کی تلاوتِ قرآنِ پاک سے ہوا، جس کے بعد حافظ توصیف صاحب نے نعتِ پاک پیش کی۔ جلسہ کی نظامت کے فرائض جمعیۃ علماء مدھیہ پردیش کے ناظمِ تنظیم محمد کلیم خان ایڈوکیٹ نے انجام دیئے۔
اس موقع پر اپنے خطاب میں جمعیۃ علماء مدھیہ پردیش کے صدر حاجی محمد ہارون نے جمعیۃ علماء ہند کے مختلف تعمیری، اصلاحی، تعلیمی اور سماجی پروگراموں پر تفصیلی روشنی ڈالی۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ حالات میں معاشرے کے اندر دینی و اخلاقی بیداری پیدا کرنے اور نئی نسل کی صحیح رہنمائی و تربیت کی ضرورت پہلے سے کہیں زیادہ بڑھ گئی ہے۔انہوں نے کہا کہ اصلاحِ معاشرہ صرف جلسوں اور تقریروں تک محدود رہنے والا پروگرام نہیں، بلکہ یہ ایک مسلسل سماجی اور اصلاحی تحریک ہے، جس کا مقصد ہر گھر اور ہر فرد تک دین، اخلاق، تعلیم، باہمی محبت، بھائی چارے اور ذمہ داری کا پیغام پہنچانا ہے۔ معاشرے میں پھیلنے والی برائیوں اور غلط رسم و رواج کے خاتمے کے لیے اجتماعی کوششوں کے ساتھ ساتھ ہر شخص کو اپنی ذات اور اپنے گھر سے اصلاح کا آغاز کرنا چاہیے۔
حاجی محمد ہارون نے جمعیۃ علماء ہند کے تعمیری پروگراموں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ تنظیم ملک و ملت کی خدمت کے ساتھ تعلیم، سماجی اصلاح، قومی یکجہتی، امن و بھائی چارے اور ضرورت مندوں کی مدد جیسے میدانوں میں مسلسل کام کر رہی ہے۔ انہوں نے ذمہ داران اور کارکنان سے اپیل کی کہ وہ ان تعمیری پروگراموں کو شہر، قصبہ، محلہ اور گاؤں کی سطح تک پہنچانے کے لیے منظم انداز میں جدوجہد کریں۔
جمعیۃ علماء ہند کے شعبۂ اصلاحِ معاشرہ کے سینئر آرگنائزر حضرت مولانا محمد خالد صاحب گیاوی نے اپنے خصوصی خطاب میں اصلاحِ معاشرہ کے مختلف پہلوؤں پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ ایک صالح اور مضبوط معاشرے کی تعمیر کے لیے ضروری ہے کہ ہم اپنی انفرادی اور اجتماعی زندگی میں دینی تعلیمات اور اعلیٰ اخلاقی اقدار کو اختیار کریں۔ خصوصاً نئی نسل کی دینی، تعلیمی اور اخلاقی تربیت پر خصوصی توجہ دینے کی ضرورت ہے۔
انہوں نے کہا کہ معاشرے میں پیدا ہونے والی بہت سی خرابیوں کا تدارک صرف شکایت کرنے سے نہیں بلکہ مسلسل اصلاحی کوشش، تعلیم و تربیت، باہمی رابطے اور عملی جدوجہد سے ممکن ہے۔ علماء، ائمہ، سماجی کارکنان اور ذمہ داران کو عوام کے درمیان رہ کر اصلاحی سرگرمیوں کو مزید مؤثر اور مضبوط بنانا چاہیے۔
جلسہ کے صدر حضرت مولانا مفتی عبدالرحیم صاحب قاسمی نے بھی اپنے صدارتی کلمات میں اصلاحِ معاشرہ کی اہمیت پر روشنی ڈالی اور حاضرین سے اپیل کی کہ جلسہ میں بیان کی گئی باتوں کو اپنی عملی زندگی کا حصہ بنائیں اور اپنے گھروں، خاندانوں اور محلوں میں اصلاحی ماحول قائم کرنے کی کوشش کریں۔
جلسہ میں سیہور شہر اور اطراف کے علاقوں سے علماء، ائمہ، ذمہ دارانِ جمعیۃ، سماجی شخصیات اور عوام کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔ جلسہ کا اختتام حضرت مولانا مفتی عبدالرحیم صاحب قاسمی کی دعا پر ہوا، جس میں ملک میں امن و امان، قومی یکجہتی، باہمی بھائی چارے، ملت کی فلاح و بہبود اور معاشرے کی اصلاح کے لیے خصوصی دعائیں کی گئیں۔









