آل انڈی امجلس اتحاد المسمین کے صوبائی صدر محسن علی خان نے ایک پریس ریلیز میں کہا ہے کہ میں مدھیہ پردیش میں یکساں شہری ضابطہ (UCC) کے نفاذ کی ممکنہ تیاری پر اپنی طرف سے سخت مخالفت کا اظہار کرتا ہوں۔ بھارت ایک کثیر مذہبی اور کثیر ثقافتی ملک ہے، جہاں ہر کمیونٹی کو اپنے مذہبی عقائد اور روایات کے مطابق زندگی گزارنے کا آئینی حق حاصل ہے۔میرا ماننا ہے کہ اگر مدھیہ پردیش میں UCC نافذ کرنے کی کوشش کی جاتی ہے تو اس کا براہ راست اثر مسلم، عیسائی اور قبائلی کمیونٹیوں پر پڑے گا۔ مسلم معاشرہ اپنے خاندان سے متعلق مسائل نکاح، طلاق، وراثت اور خاندان کے تعلق سے اپنے مذہبی عقائد اور شناخت کے مطابق عمل کرتا ہے، جو ان کے مذہبی ایمان کا اہم حصہ ہے۔ اسی طرح، عیسائی کمیونٹی کے بھی شادی اور خاندان سے متعلق اپنے مذہبی اصول اور روایات ہیں، جبکہ مدھیہ پردیش کے قبائلی معاشرے کی اپنی روایتی سماجی تنظیم اور رسم و رواج ہیں۔ایسے میں یکساں سول کوڈ ضابطہ نافذ کرنا ان کمیونٹیوں کی مذہبی اور ثقافتی آزادی کو متاثر کر سکتا ہے۔ بھارت کی اصل طاقت اس کی متنوعیت اور ثقافتی کثرت میں ہے، لہٰذا کسی بھی کمیونٹی پر اس کی روایات کے خلاف قانون مسلط کرنا مناسب نہیں ہے۔میں مدھیہ پردیش حکومت سے مطالبہ کرتا ہوں کہ اتنے حساس موضوع پر جلد بازی میں کوئی فیصلہ نہ کیا جائے اور تمام کمیونٹیوں، سماجی تنظیموں اور مذہبی نمائندوں سے براہ راست بات چیت کی جائے۔ اگر بغیر اتفاق کے UCC نافذ کرنے کی کوشش کی گئی تو صوبہ کی مسلم، عیسائی اور قبائلی کمیونٹیز اس کے خلاف جمہوری اور آئینی طریقے سے اپنی آواز اٹھائیں گی۔