بھوپال:30؍اپریل:عالمی بازاروںمیں’میڈ ان انڈیا‘ مصنوعات کی بڑھتی ہوئی مانگ کے درمیان مدھیہ پردیش کے ایم ایس ایم ای اور ڈی2سی برانڈز اب براہِ راست بین الاقوامی گراہکوںتک اپنی رسائی قائم کر رہے ہیں۔ اسی سمت میں اندور میں ایمیزون کے ای- کامرس برآمدی پروگرام ایمیزون گلوبل سیلنگ کے ذریعہ ایکسپورٹ ہاٹ” کا انعقاد کیا گیا، جس نے ابھرتے ہوئے کاروباری افراد اور برآمد کنندگان کو عالمی تجارت سے جوڑنے کا ایک مضبوط پلیٹ فارم فراہم کیا۔
ایمیزون گلوبل سیلنگ کی جانب سے سال 2015 سے اب تک 2 لاکھ سے زیادہ بھارتی برآمد کنندگان کو 20 بلین ڈالر سے زیادہ کے مجموعی ای کامرس برآمدات تک پہنچنے میں تعاون فراہم کیا گیا ہے۔ اندور میں منعقدہ اس پروگرام میں 150 سے زیادہ برآمد کنندگان نے شرکت کی، جن میں بھوپال سمیت قریبی علاقوں کے برآمد کنندگان شامل تھے۔ اس پروگرام کے ذریعہ ایم ایس ایم ای، ڈی2سی برانڈز اور ٹئیر-2 شہروں کے کاروباری افراد کو عالمی بازاروںتک رسائی حاصل کرنے کے لیے تفصیلی رہنمائی فراہم کی گئی، جس میں برآمدی کاروبار کی شروعات، توسیع، مارکیٹ کے مواقع کی شناخت، لاجسٹکس، بین الاقوامی ادائیگیاں اور ای -کامرس برآمدات سے متعلق تمام ضروری پہلو شامل تھے۔
اس سال ایمیزون گلوبل سیلنگ کی جانب سے تروپور، کرور اور تھانے جیسے اہم مینوفیکچرنگ مراکز میں بھی اسی طرح کی پہلیں کی جا رہی ہیں۔ اندور میں منعقدہ یہ پروگرام فیڈریشن آف انڈین ایکسپورٹ آرگنائزیشنز (ایف آئی ای او) کے تعاون سے مکمل ہوا، جس نے خطے کی بڑھتی ہوئی برآمدی صلاحیت کو اجاگر کیا۔ ٹیکسٹائل، دستکاری، ہوم ڈیکور اور غذائی مصنوعات کے مضبوط پیداواری ڈھانچے کی وجہ سے مدھیہ پردیش عالمی توسیع کے خواہشمند چھوٹے کاروباروں کے لیے تیزی سے کشش کا مرکز بنتا جا رہا ہے۔
اس وقت ریاست کے 8 ہزار سے زیادہ برآمد کنندگان بین الاقوامی منڈیوں میں سرگرم ہیں۔ایم پی انڈسٹریل ڈیولپمنٹ کارپوریشن کے منیجنگ ڈائریکٹر اور ایکسپورٹ کمشنر مسٹر چندرمولی شکلا نے بتایا کہ مدھیہ پردیش مضبوط ایم ایس ایم ای بنیاد اور متنوع مصنوعات کی اقسام کے باعث بھارت کے برآمدی منظرنامے میں اہم کردار ادا کر رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ عالمی خریداروں کی بدلتی ترجیحات کے درمیان ای کامرس برآمدات مقامی کاروباروں کو براہِ راست گاہکوں تک پہنچنے اور اپنے برانڈ قائم کرنے کا موقع فراہم کر رہی ہیں۔ ایسے پروگرام فروخت کنندگان کو ڈیجیٹل ٹولز کے استعمال اور برآمدی عمل کو سمجھنے کے قابل بنا رہے ہیں، جس سے اندور کے کاروبار عالمی سطح پر توسیع کر سکتے ہیں۔
ایم پی آئی ڈی سی اندور کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر مسٹر ہمانشو پرجاپتی نے بتایا کہ اندور برآمدات اور کاروباری سرگرمیوں کا ایک مضبوط مرکز بن کر ابھر رہا ہے۔ ایکسپورٹ ہاٹ ڈیجیٹل برآمدی ماحولیاتی نظام کو مضبوط بنانے کی سمت میں ایک اہم پہل ہے، جو ایم ایس ایم ای، اسٹارٹ اپس اور ڈی2سی برانڈز کو عالمی ای کامرس اور کراس بارڈر تجارت کی سمجھ فراہم کرتا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ او ڈی او پی اور جی آئی ٹیگ مصنوعات کو ڈیجیٹل پلیٹ فارمز سے جوڑ کر ریاست اپنے منفرد مصنوعات کو عالمی سطح پر قائم کر سکتی ہے۔ایمیزون گلوبل سیلنگ انڈیا کی سربراہ مسٹر سرینِدھی کلپووڑی نے بتایا کہ اندور جیسے ابھرتے مراکز تیزی سے عالمی بازاروںکی جانب بڑھ رہے ہیں۔ مدھیہ پردیش کی ٹیکسٹائل اور کپاس کی پیداواری صلاحیت اب عالمی طلب میں تبدیل ہو رہی ہے، جس سے ’میڈ اِن انڈیا‘ مصنوعات کی رسائی دنیا بھر میں بڑھ رہی ہے۔
انہوں نے بتایا کہ برآمدی عمل کو آسان اور قابلِ رسائی بنانے کے لیے ضروری ٹولز، معلومات اور مکمل تعاون فراہم کیا جا رہا ہے، تاکہ ایم ایس ایم ای اور ڈی2سی برانڈز عالمی گاہکوں تک پہنچ سکیں اور سال 2030 تک 80 بلین ڈالر کے مجموعی ای کامرس برآمدات کے ہدف کی سمت آگے بڑھ سکیں۔
ڈی ٹی وی ایکسپورٹس پرائیویٹ لمیٹڈ کے بانی اور ڈائریکٹر مسٹر سچن سْلے نے بتایا کہ ایس جی آئی بیڈنگ کے ذریعے بھارتی ٹیکسٹائل ورثے کو عالمی سطح پر پیش کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ایمیزون گلوبل سیلنگ سے مارکیٹ رجحانات کو سمجھنے، ماحول کے تئیں باخبر گاہکوں تک رسائی اور فل فلمنٹ بائے ایمیزون کے ذریعے لاجسٹکس مینجمنٹ میں آسانی حاصل ہوئی ہے۔ مسابقتی قیمتوں پر پائیدار مصنوعات فراہم کرتے ہوئے بھارتی دستکاری کو عالمی گاہکوں تک پہنچایا جا رہا ہے، جس سے بھارت کے ٹیکسٹائل شعبے میں عالمی شناخت مزید مضبوط ہو رہی ہے۔