بھوپال/ کولکاتا، 18 اپریل: مغربی بنگال اسمبلی انتخابات کے پیشِ نظر مدھیہ پردیش کے وزیر اعلیٰ ڈاکٹر موہن یادو نے آج کولکاتا میں بی جے پی امیدواروں کے حق میں بھرپور انتخابی مہم چلائی۔ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ بنگال کی عوام اب موجودہ ’جنگل راج‘ اور ٹھہراؤ سے نجات چاہتی ہے اور ترقی کی راہ پر گامزن ہونے کے لیے پوری طرح تیار ہے۔ ڈاکٹر یادو نے افسوس کا اظہار کیا کہ ایک زمانے میں ملک کی قیادت کرنے والی ریاست بنگال، پہلے کمیونسٹوں اور پھر ترنمول کانگریس کی حکومتوں کی وجہ سے ترقی کی دوڑ میں بہت پیچھے چھوٹ گئی ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ وزیر اعظم نریندر مودی کی قیادت میں ملک کی دیگر ریاستیں تیزی سے آگے بڑھ رہی ہیں اور اب بنگال کے لوگ بھی ویسا ہی استحکام اور ترقی چاہتے ہیں۔
انتخابی تشہیر کے دوران وزیر اعلیٰ ڈاکٹر موہن یادو نے کولکاتا کے کمرہاٹی حلقے کے وارڈ نمبر 24 اور 112 میں گھر گھر جا کر لوگوں سے ملاقات کی اور دکانوں و گلیوں میں عام شہریوں سے براہِ راست مکالمہ کر کے ان کے مسائل سنے۔ انہوں نے بنگلہ دیشی دراندازی کا مسئلہ اٹھاتے ہوئے کہا کہ اسے روکنے کے لیے سخت اقدامات ضروری ہیں۔ وزیر اعلیٰ نے بھروسہ دلایا کہ اگر بنگال میں بی جے پی کی حکومت بنتی ہے تو ’ڈبل انجن‘ کی طاقت سے ترقی کی رفتار کئی گنا بڑھ جائے گی اور بے روزگاری و غربت جیسے مسائل کا خاتمہ ہوگا۔ انہوں نے کمرہاٹی نشست سے بی جے پی امیدوار اروپ چودھری کو بھاری اکثریت سے کامیاب بنانے کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ بنگال میں ترقی کے لامحدود امکانات ہیں جنہیں صرف بی جے پی ہی حقیقت میں بدل سکتی ہے۔









