کولکتہ۔ مغربی بنگال میں اقتدار کی تبدیلی کے بعد، ترنمول کانگریس (ٹی ایم سی) کی اعلیٰ قیادت کی مشکلات اور سیاسی نقصان کم ہونے کے آثار نظر نہیں آتے۔ جس ریاست میں کبھی ممتا بنرجی کے بھتیجے اور ٹی ایم سی کے قومی جنرل سکریٹری ابھیشیک بنرجی کی ‘شانتی نکیتن’ رہائش گاہ کی تصویر لینا بھی جرم سمجھا جاتا تھا، آج اسی بنگال میں ایک بے مثال اور چونکا دینے والا واقعہ پیش آیا ہے۔ ایم پی ابھیشیک بنرجی، جو جنوبی 24 پرگنہ ضلع کے سونار پور میں پوسٹ پول تشدد کے متاثرین کے اہل خانہ سے ملنے آئے تھے، انہیں مقامی باشندوں اور مشتعل ہجوم کے بڑے غصے کا سامنا کرنا پڑا۔ صورتح اس قدر بگڑ گئی کہ مقامی لوگوں نے ٹی ایم سی کے رکن پارلیمنٹ پر حملہ کر دیا جس کے نتیجے میں زبردست بھگدڑ مچ گئی۔ حملے کے بعد ابھیشیک بنرجی نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ “یہ سب بی جے پی کی سرپرستی میں ہورہا ہے، حالات کو دیکھیں۔ یہ ان کی جمہوریت کا منہ بولتا ثبوت ہے، ایک مہینہ بھی نہیں ہوا، پولیس کہیں نظر نہیں آرہی، کسی نے پیچھے سے حملہ کر دیا، پولیس کو بار بار بلانے کے باوجود کچھ نہیں ہوا۔” عینی شاہدین اور زمینی اطلاعات کے مطابق جیسے ہی ابھیشیک بنرجی کا قافلہ سونار پور کے متاثرہ علاقے میں پہنچا تو پہلے سے ہی مشتعل مقامی لوگوں اور خواتین نے انہیں گھیر لیا۔ بھیڑ نے ٹی ایم سی قیادت اور سابقہ حکومت کے دوران کئے گئے مبینہ گھوٹالوں کے خلاف ’’چور، چور‘‘ کا نعرہ لگانے لگا۔









