نئی دہلی 23اپریل: امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے امریکی ریڈیو میزبان مائیکل سیویج کا ایک خط دوبارہ پوسٹ کیا ہے، جس میں ہندوستان اور کچھ دیگر ممالک کو ’جہنم‘ ٹھہرایا گیا ہے۔ اس خط میں امریکہ کی پیدائشی شہریت قانون میں تبدیلی کا مطالبہ کرتے ہوئے نسل پرستانہ تبصرے کیے گئے ہیں۔ اس معاملہ میں کانگریس نے اپنا سخت رد عمل ظاہر کیا ہے۔ کانگریس نے پی ایم مودی سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اس معاملے میں امریکی صدر سے بات کریں۔ کانگریس نے یہ مطالبہ سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر جاری ایک پوسٹ میں کیا ہے۔ پارٹی نے لکھا ہے کہ ’’امریکہ کے صدر ٹرمپ نے ہندوستان کو ’جہنم‘ بتایا ہے۔ یہ بات بے حد ہتک آمیز ہے اور ہندوستان مخالف ہے۔ ہر ہندوستانی کو اس سے تکلیف ہوئی ہے۔ اس بات کے لیے پی ایم مودی کو امریکی صدر سے بات کرنی چاہیے اور سخت اعتراض درج کرانا چاہیے۔‘‘ کانگریس نے آگے لکھا ہے ’’حالانکہ جس حساب کا مودی کا ٹریک ریکارڈ رہا ہے، ایسے میں یہ امید نہیں کی جا سکتی کہ ٹرمپ کے آگے مودی کچھ بول پائیں گے۔‘‘ کانگریس کا کہنا ہے کہ ٹرمپ لگاتار ہندوستان کے لیے ہتک آمیز باتیں کرتے ہیں اور مودی خاموشی سنتے رہتے ہیں، یہ مناسب نہیں ہے۔ پی ایم مودی کو ہدف تنقید بناتے ہوئے پارٹی نے کہا کہ ’’نریندر مودی ایک کمزور وزیر اعظم ہیں اور اس کا خمیازہ پورا ملک بھگت رہا ہے۔‘‘ غور کرنے والی بات یہ ہے کہ ٹرمپ نے ہندوستان کے ساتھ ساتھ چین اور کچھ دیگر ممالک کو بھی ’جہنم‘ نشان قرار دیا ہے، جس سے عالمی سطح پر انھیں تنقید کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔









