نئی دہلی 30جولائی: پارلیمنٹ کے جاری مانسون اجلاس کے نویں دن لوک سبھا نے ’وندے ماترم بل‘ کو منظوری دے دی۔ اس سے قبل یہ بل 29 جولائی کو راجیہ سبھا سے منظور ہو چکا تھا۔ اب دونوں ایوانوں سے منظوری ملنے کے بعد اس کے قانون بننے کی راہ صاف ہو گئی ہے۔ دونوں ایوانوں سے منظور ہونے کے بعد یہ بل صدر جمہوریہ کو بھیجا جائے گا۔ صدر جمہوریہ کی منظوری کے بعد یہ بل قانون کی شکل اختیار کر لے گا۔ صدر جمہوریہ کے دستخط کے بعد اس قانون کو ’گزٹ آف انڈیا‘ میں شائع کیا جائے گا۔ حکومت کی جانب سے مقرر کی گئی تاریخ سے یہ قانون پورے ملک اور جن علاقوں کے لیے نافذ کیا جائے گا، وہاں مؤثر ہو جائے گا۔ اپوزیشن کے شور شرابے کے درمیان وندے ماترم بل کو منظوری ملنے کے ساتھ ہی لوک سبھا کی کارروائی اگلے دن یعنی 31 جولائی تک کے لیے ملتوی کر دی گئی۔ مرکزی وزیر مملکت برائے داخلہ نتیانند رائے نے لوک سبھا میں ’قومی اعزاز کی توہین کی روک تھام (ترمیمی) بل، 2026‘ کو غور و خوض اور منظوری کے لیے پیش کیا تھا۔ ووٹنگ کے بعد اس بل کو منظوری ملی۔ اس بل کے ذریعے ’قومی اعزاز کی توہین کی روک تھام ایکٹ، 1971‘ میں مزید ترمیم کی گئی ہے۔ مرکزی حکومت کی جانب سے یہ بل مانسون اجلاس کے دوران وزیر داخلہ امت شاہ نے راجیہ سبھا میں پیش کیا تھا۔ اس پر بحث کے بعد پارلیمنٹ کے ایوان بالا نے اسے منظور کر لیا تھا۔ بل پر بحث کے دوران مرکزی وزیر مملکت برائے داخلہ نتیانند رائے نے کہا کہ قومی علامات کا احترام ایسا موضوع ہے جو سیاست سے بالاتر ہونا چاہیے۔ یہ بل کسی فرد یا کسی نظریے کے خلاف نہیں بلکہ قوم کے وقار اور ہماری مشترکہ قومی شعور کے حق میں ہے۔