پٹنہ3جون: بہار کی راجدھانی پٹنہ میں معروف استاد خان سر کے کوچنگ ادارے پر حملے اور توڑ پھوڑ کے واقعے کے بعد ریاستی حکومت نے کوچنگ اداروں کے لیے ایک جامع پالیسی بنانے کا اعلان کیا ہے۔ بہار کے وزیر تعلیم متھلیش تیواری نے بدھ کے روز کہا کہ حکومت آئندہ تین ماہ کے اندر ایسی پالیسی تیار کرے گی جس کے ذریعے کوچنگ اداروں کی سرگرمیوں کو منظم کیا جا سکے اور باہمی رقابت کے نتیجے میں نظم و نسق کی صورت حال متاثر ہونے سے روکا جا سکے۔ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے متھلیش تیواری نے کہا کہ خان سر کے کوچنگ ادارے پر حملے کے واقعے کی غیر جانبدارانہ اور مکمل جانچ ہونی چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ اگر مختلف کوچنگ ادارے آپسی مقابلے کی وجہ سے ایسے حالات پیدا کرتے ہیں جن سے امن و امان کے مسائل جنم لیں، تو حکومت اس پر خاموش نہیں رہ سکتی۔ اسی مقصد کے تحت کوچنگ اداروں کے لیے واضح اصول و ضوابط پر مبنی پالیسی تیار کی جائے گی۔ وزیر تعلیم نے کہا کہ نئی پالیسی کے تحت کوچنگ اداروں کی ذمہ داریاں اور حدود متعین کی جائیں گی۔ پالیسی نافذ ہونے کے بعد اس کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف قانونی کارروائی بھی کی جائے گی۔ انہوں نے واضح کیا کہ پالیسی تیار کرنے سے قبل تمام متعلقہ فریقوں سے مشاورت کی جائے گی تاکہ ایسا نظام بنایا جا سکے جو عملی اور مؤثر ہو۔ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ ریاست میں اساتذہ کے تبادلوں کے حوالے سے بھی ایک نئی پالیسی پر غور کیا جا رہا ہے۔ ان کے مطابق حکومت عوام اور متعلقہ حلقوں کی رائے حاصل کیے بغیر کوئی فیصلہ نہیں کرے گی اور تمام تجاویز کو مدنظر رکھتے ہوئے حتمی پالیسی مرتب کی جائے گی۔









