عبدالمنان فلاحی
ہندوستان جیسے کثیر مذہبی اور تہذیبی تنوع کے حامل ملک میں مختلف مذاہب کے پیروکاروں کے درمیان میل جول، ہمسائیگی اور سماجی تعلقات زندگی کا ایک ناگزیر حصہ ہیں۔ اسلام اپنے ماننے والوں کو اپنے عقائد و اعمال میں پختگی کے ساتھ دوسروں کے حقوق کی رعایت، حسنِ سلوک اور عدل و انصاف کی تعلیم دیتا ہے۔ قرآنِ کریم میں ارشاد ہے:َ،ترجمہ: یعنی اللہ تعالیٰ تمہیں ان لوگوں کے ساتھ نیکی اور انصاف کرنے سے منع نہیں فرماتا جنہوں نے دین کے معاملے میں تم سے جنگ نہیں کی اور تمہیں تمہارے گھروں سے نہیں نکالا۔ اس آیت میں مذکور لفظ بِرّ محض رسمی خوش اخلاقی کا نام نہیں، بلکہ اس میں بھلائی، خیر خواہی، حسنِ معاملہ اور انسانی تعلقات کی پاس داری کے وسیع معانی شامل ہیں۔ اسی اصول کی عملی مثال حضرت اسماء بنت ابی بکر رضی اللہ عنہا کا واقعہ ہے کہ ان کی مشرک والدہ ان سے ملنے آئیں تو انہوں نے رسول اللہ ﷺ سے دریافت کیا کہ کیا میں ان کے ساتھ صلہ رحمی کروں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: نَعَمْ، صِلِي أُمَّ ِ؛ ہاں، اپنی ماں کے ساتھ صلہ رحمی کرو۔ (صحیح البخاری) اس سے معلوم ہوتا ہے کہ مذہبی اختلاف انسانی تعلقات، قرابت داری اور حسنِ سلوک کی راہ میں رکاوٹ نہیں بنتا، بشرطیکہ ان تعلقات میں دینی حدود پامال نہ ہوں۔
غیر مسلموں کے ساتھ تحائف کا تبادلہ اور ان کی طرف سے دیے گئے جائز تحائف قبول کرنا بھی اصولی طور پر ممنوع نہیں۔ امام بخاری رحمہ اللہ نے اپنی صحیح البخاری میں مستقل باب قائم کیا ہے: ترجمہ :یعنی مشرکین کے تحائف قبول کرنے کا بیان۔ اس اصول کی روشنی میں دیوالی یا دیگر تہواروں کے موقع پر کسی غیر مسلم پڑوسی یا شناسا کی طرف سے بھیجی گئی عام مٹھائی اور تحفہ قبول کیا جا سکتا ہے، بشرطیکہ اس میں کوئی حرام جزو شامل نہ ہو اور وہ کسی مذہبی رسم یا عبادت کا حصہ نہ ہو۔ یہاں ایک بنیادی فرق سمجھنا ضروری ہے، کہ تہوار کے موقع پر محض سماجی تعلق کے طور پر دی جانے والی مٹھائی اور وہ پرساد جو کسی معبود کے چڑھاوے یا پوجا پاٹ کے بعد مذہبی تبرک کے طور پر تقسیم کرنے سے وجود میں آتی ہے۔ ایسی پرساد قبول کرنا یا کھانا مسلمان کے لیے جائز نہیں، کیونکہ اس میں غیر اسلامی مذہبی عمل کی تعظیم اور اس کے ساتھ شرکت کا پہلو پایا جاتا ہے؛ جب کہ عام مٹھائی یا تحفہ اپنی اصل کے اعتبار سے ایک سماجی معاملہ ہے، جسے مذہبی رسم سے خالی ہونے کی صورت میں قبول کیا جا سکتا ہے۔ اسی طرح کھانے پینے کے معاملے میں حلال و حرام کی رعایت بھی ضروری ہے: اگر کھانے میں کوئی حرام چیز شامل ہو، یا اس کے حرام ہونے کا معتبر علم ہو تو اسے کھانا جائز نہیں۔ مزید یہ کہ اگر کسی شخص کی غالب آمدنی حرام ذرائع سے حاصل ہوتی ہو تو اس کے یہاں کا کھانا قبول کرنے میں بھی شرعی احتیاط لازم ہے؛ یہ حکم صرف غیر مسلم کے لیے مخصوص نہیں، مسلمان کی دعوت پر بھی اسی اصول کا اطلاق ہوگا۔ البتہ محض کسی شخص کے غیر مسلم ہونے یا اس کے تہوار کے موقع پر تحفہ بھیجنے سے اس کے ہر تحفے کو ناجائز قرار نہیں دیا جا سکتا؛ ہر معاملے کا حکم اس کی حقیقت، نوعیت اور شرعی حیثیت کے مطابق متعین ہوگا۔
اسلامی رواداری کا صحیح مفہوم یہ ہے کہ مسلمان اپنے عقیدے اور مذہبی شناخت پر پوری استقامت کے ساتھ قائم رہے، مگر اس کے اخلاق، معاملات اور معاشرت میں کشادہ دلی، انصاف اور خیر خواہی نمایاں ہو۔ پڑوسی کے دکھ درد میں شریک ہونا، بیمار کی عیادت کرنا، ضرورت مند کی مدد کرنا، معاملات میں دیانت داری برتنا اور سماجی مواقع پر خوش اخلاقی کا مظاہرہ کرنا اسلامی تعلیمات ہی کا حصہ ہے۔ اس طرزِ عمل سے نہ مذہبی تشخص مجروح ہوتا ہے اور نہ عقیدے کی حدود متاثر ہوتی ہیں؛ البتہ اس کے لیے ضروری ہے کہ مسلمان سماجی تعلقات اور مذہبی رسوم کے درمیان فرق ملحوظ رکھے، کسی غیر اسلامی عبادت میں شریک نہ ہو اور نہ ایسے عمل کی تائید کرے جو اس کے عقیدے سے متصادم ہو۔ چنانچہ مذہبی تہواروں اور باہمی میل جول کے مواقع پر ایک مسلمان کا رویہ ایسا ہونا چاہیے جس میں اسلامی شناخت اور دینی امتیاز پوری طرح محفوظ رہیں، اور اس کے ساتھ قومی ہم آہنگی، انسانی ہمدردی، باہمی احترام اور معاشرتی اخوت کے تقاضے بھی زندہ رہیں۔ یہی وہ متوازن طرزِ معاشرت ہے جس میں ایمان کی پختگی بھی برقرار رہتی ہے اور حسنِ کردار کے ذریعے اسلام کی حقیقی تعلیمات کا تعارف بھی ہوتا ہے۔