بھوپال:7نومبر:آج قاضی شہر حضرت مولانا سید مشتاق علی ندوی حفظہ اللہ نے موتی مسجد بھوپال میں حمد و ثنا کے بعد حاضرین مسجد کو خطاب کرتے ہوئے فرمایا کہ اللہ وحدہٗ لاشریک کا عظیم ترین احسان ہے کہ اس نے نہ صرف ہمیں صاحب ایمان بنایا بلکہ ہمارے آبائو اجداد کو بھی ایمان کی دولت سے سرفراز فرمایا اور ہماری رہنمائی کیلئے باضابطہ معلم(رسول) بھیجا تاکہ ہم ضابطہ حیات اور اللہ کی مرضیات کو جان کر اس پر عمل کریں اور اللہ کے محبوب بندوں میں ہمارا شمار ہو۔ میرے محترم بزرگو اوردوستو!گزشتہ کئی ہفتوں سے میں نے والدین،میاں بیوی،اولاد،پڑوسی اور رشتہ داروں کے حقوق پر باتیں کیں ،آج میں جانوروں کے حقوق پر اسلامی تعلیمات کی روشنی میں چند باتیں آپ حضرات کے گوش گزار کرنا چاہتا ہوں ۔ سب سے پہلے تو ہم اس حقیقت کو سمجھ لیں کہ اسلام وہ آفاقی مذہب ہے جو حیات انسانی کے تمام گوشے کی مکمل رہنمائی کرتا ہے ،ایسا نہیں کہ ایک گوشے کی رہنمائی کی اور دوسرے گوشے کو چھوڑ دیا۔ دیکھئے اسلام کا امتیاز،وہ جہاں حقوق انسانی کی بات کرتا ہے وہیں جانوروں کے حقوق کی بھی تعلیم دیتا ہے اور اس پر اجر کا اعلان بھی کرتا ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ کائنات میں تمام مذاہب پر اسلام کو برتری حاصل ہے اگر ہم اسلام سے قبل کے حالات پر ایک نظر ڈالیں تو ہمیں سب کچھ سمجھ میں آجائے گا کہ رہبر دوعالم ﷺ کو اللہ تعالیٰ نے پورے عالم کیلئے رحمت بناکر بھیجا،اس میں اس بات کی تخصیص نہیں کی کہ آپﷺ صرف اہل ایمان کیلئے رحمت ہیں یا صرف انسانوں کیلئے رحمت ہیں ،اللہ تعالیٰ کے اعلان عام میں ہر جاندار شامل ہے ۔ محتر م حاضرین مسجد !یہی وجہ ہے کہ ہمارے پیارے نبی نے ہر جاندار کے ساتھ رحم و کرم کا معاملہ فرمایا اور انسانوں کو خصوصیت کے ساتھ اس کی تعلیم دی ورنہ آپ ﷺ کی آمد سے قبل عرب کے لوگ اتنے بڑے جاہل تھے کہ وہ انسانوں پر مظالم تو ڈھاتے ہی تھے جانوروں پر بھی وہ طرح طرح کے مظالم کرتے تھے۔ ان ہی مظالم میں سے ایک یہ تھا کہ جب وہ سفر کرتے اورراستے میں کھانے کا سامان ختم ہو جاتا تو زندہ جانور کے جسم سے گوشت کاٹ کر کچابھون کر کھاجاتے اوراسے اگر سفر کے دوران پانی نہ ملتا تویہ لوگ اونٹ کا کوہان چیر کر اس میں سے پانی نکال کرپی جاتے، تصور کیجئے روح کانپ اٹھتی ہے،پرندوں پر نشانہ لگاتے اور انہیں مار کر پھینک ڈالتے تھے ،جانوروں پر اس کی طاقت سے زیادہ بوجھ لادتے تھے اور ان کے کھانے پینے کی فکر نہیں کرتے تھے،ایسے بیشمار ظلم تھے جو اہل عرب جانوروں پر کرتے تھے مگر انہیں کوئی ملال نہیں ہوتا تھا لیکن جب رحمت کائنات نبی کریمﷺ کی آمد ہوئی تو آپ ﷺنے جانوروں کے معاملے میں لوگوں کوسمجھایا ،انہیں ہدایات دیں اور ان بے زبانوں پر ظلم کاسلسلہ بندکروایا۔اس طر ح آپ کی ذات گرامی جانوروں کے لئے بھی رحمت بن کر آئی۔اس لئے جانوروں پرترس کھانا، انکی خوراک کاخیال رکھنا ،خصوصاً بھوک میں ان کو کھلانا پلانا، ان کوتنگ کرنے سے باز رہنا،ان کی طاقت کے مطابق ان پر بوجھ لادنا،زخمی یا بیمار ہونے کی صورت میں انہیں آرام دینا ایک مسلمان پر فرض ہے۔
حضرت عائشہ صدیقہؓ فرماتی ہیں کہ قربانی کا دن تھا ، حضور نے فرمایا کہ عائشہ چھری تیز کردینا جانور قربان کرنا ہے ۔معلوم ہوا کہ جانوروں کو ذبح کرنے کیلئے آپ نے چھری تیز کرنے کیلئے اس لئے فرمایا کہ ذبح کے وقت جانور کو زیادہ تکلیف نہ ہو،آپ نے فرمایا کہ جانور کے سامنے چھری تیز کرنا بھی مناسب نہیں کہ اسے احساس ہو اور وہ مغموم ہوجائے ۔حضور کی جانوروں سے محبت کا حال دیکھئے کہ ایک اونٹ آپ کی خدمت میں آتا ہے اور اپنے مالک کی شکایت کرتا ہے کہ وہ اس کی طاقت سے زیادہ کام لیتا ہے اور پیٹ بھر کھانا بھی نہیں دیتا ۔آپ ﷺ اونٹ کے مالک کو بلاتے ہیں اور اسے نصیحت کرتے ہیں کہ وہ اونٹ سے اس کی طاقت سے زیادہ کام نہ لے اور اس کے کھانے پینے کا بھر پور خیال رکھے۔ایک سفر کے دوران ایک صحابی پرندے کے گھونسلے سے اس کا بچہ اٹھا لاتے ہیں،اس کی ماں حضور کی خدمت میں آکر فریاد کرتی ہے ،آپ ﷺ صحابی کو فوراًحکم دیتے ہیں کہ وہ پرندے کے بچے کو اس کے گھونسلے تک چھوڑ آئے ۔اس قسم کے بیشمار واقعات ہیں مگر وقت کی تنگی کے سبب ان کا بیان ممکن نہیں ۔ الحاصل ہمیں ہمارے رسولﷺ نے تعلیم دی ہے کہ ہم سب کے ساتھ حسن سلوک سے پیش آئیں ۔اسلام صرف تھیوری کا نام نہیں اس میں پریکٹیکل بھی شامل ہے۔ہم سچے اور اچھے مسلمان اسی وقت بن سکتے ہیں جب اسلام ہماری زبان سے اتر کر ہمارے ایک ایک عمل میں داخل ہوجائے ۔قاضی شہر نے فرمایا کہ میں نوجوانوں سے بڑی سنجیدگی سے کہنا چاہوں کہ آپ اپنی زندگی کے ایک ایک لمحے کو خود کو بنانے میں لگائیں ۔آج مواقع کی کمی نہیں ہے ،پہلے تو اتنے مواقع نہیں تھے ،کام کم ،تعلیم کے مراکز کم اور سہولتوں کا فقدان تھا مگر آج ایسا نہیں ہے ۔آج خود کی صلاحیت کو اجاگر کرنے کیلئے بیشمار مواقع ہیں ۔آپ ہر میدان میں خود کو اجاگر کرسکتے ہیں ۔ایک سچا،خوش اخلاق،باکردار اور اعلیٰ اخلاق انسان بنئے ،اعلیٰ تعلیم حاصل کیجئے اور خود کو ثابت کیجئے کہ آپ ایک اچھے مسلمان اور ذمہ دار شہری ہیں۔آج مسلمانوں کے خلاف کیا کچھ نہیں کہا جارہا ہے ،دہشت گرد،ملک مخالف وغیرہ ،نوجوانو! آپ کو ثابت کرنا ہے کہ آپ کے دل انسان کیا جانوروں کی محبت سے بھی لبریز ہیں۔بھلا ایسا انسان جو جانوروںسے بھی حسن سلوک کرتاہو وہ انسانوں سے نفرت کیسیکرسکتا ہے ؟ لہذا عزم کیجئے کہ اپنی زندگی کا ایک ایک لمحہ خود کو اور ملت کو سنوارنے میں صرف کریں گے۔اللہ تعالیٰ ہمارے لئے آسانیاں پیدا فرمائے۔









