بھوپال۔07؍نومبر(پریس ریلیز) جمعیۃ علماء ہند کی نیشنل گورننگ باڈی کا دو روزہ اہم اجلاس 30 اور 31 اکتوبر 2026 کو ہریانہ کے ضلع نوح میں منعقد ہوا۔ اجلاس کی صدارت جمعیۃ علماء ہند کے قومی صدر حضرت مولانا سید محمود اسعد مدنی صاحب نے فرمائی۔ اس موقع پر جمعیۃ علماء مدھیہ پردیش کے صدر حاجی محمد ہارون صاحب نے اپنے خصوصی خطاب میں ملک بھر میں وقف املاک کے تحفظ، اوقاف سے متعلق عدالتی مقدمات، محکمہ مال کے ریکارڈ میں بے ضابطگیوں، تاریخی مساجد کی موجودہ صورتحال اور مدارس کے سامنے پیدا کی جانے والی مشکلات کو نہایت سنجیدگی کے ساتھ اٹھایا۔حاجی محمد ہارون صاحب نے اپنے خطاب میں کہا کہ موجودہ دور میں اوقاف کی جائیدادوں پر چاروں طرف سے حملے ہو رہے ہیں۔ ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے ایک سیلاب سا آ گیا ہو۔ ہماری بیش قیمت وقف جائیدادوں پر بدنیت لوگوں کی نظریں جمی ہوئی ہیں۔انہوں نے کہا کہ ملک میں اوقاف کی جائیدادوں کی تاریخ صرف چودہ سو سال تک محدود نہیں ہے بلکہ بعض مقامات کی تاریخ ہزاروں سال پرانی بھی ہے۔ ہندوستان میں انبیائے کرام سے منسوب مزارات اور قبریں بھی موجود ہیں۔ اس اعتبار سے اوقاف کی املاک کی تاریخ نہایت قدیم ہے۔انہوں نے کہا کہ وقف جائیدادیں صرف بادشاہوں کی عطا کردہ نہیں ہیں بلکہ غریبوں، فقیروں اور عام لوگوں نے بھی اپنی جائیدادیں اللہ کی راہ میں وقف کی ہیں۔ یہ جائیدادیں معاشرے کے مختلف طبقات کی جانب سے دی گئی امانت ہیں، جن کی حفاظت کرنا ہم سب کی اجتماعی ذمہ داری ہے۔
اوقاف کے مقدمات کی مؤثر پیروی اور نگرانی ضروری
حاجی ہارون صاحب نے کہا کہ آج ملک بھر میں وقف املاک سے متعلق معاملات میں انصاف کے نام پر ناانصافی ہو رہی ہے۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ کئی معاملات میں عدالتوں کے ذریعے بھی وقف املاک کے خلاف فیصلے کرائے جا رہے ہیں۔ ذمہ دار افراد کو ڈرا دھمکا کر مقدمات قائم کیے جاتے ہیں، جن میں سے بہت سے بعد میں غلط ثابت ہوتے ہیں۔
انہوں نے اپیل کی کہ ملک بھر میں اوقاف سے متعلق تمام مقدمات پر سنجیدگی سے نظر رکھی جائے، خصوصاً مقامی سطح پر چلنے والے مقدمات کی مؤثر نگرانی نہایت ضروری ہے۔اس سلسلے میں انہوں نے اجین کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ حال ہی میں اجین کی شاہی مسجد سے متعلق دو مقدمات میں ہمارے خلاف فیصلے آئے۔ جب ان معاملات کے سلسلے میں جمعیۃ علماء ہند کے ذمہ دار وکلاء سے گفتگو کی گئی تو انہوں نے بتایا کہ مقدمات نہ تو صحیح طریقے سے دائر کیے گئے تھے اور نہ ہی ان کی مؤثر پیروی کی گئی۔
انہوں نے کہا کہ اس قسم کی لاپروائی کے سبب ہماری اہم وقف جائیدادوں کو نقصان پہنچ رہا ہے۔ اس لیے ضروری ہے کہ اوقاف سے متعلق ہر مقدمے کی قانونی تیاری اور پیروی پوری سنجیدگی اور ذمہ داری کے ساتھ کی جائے۔
اجین کی تکیہ مسجد کا معاملہ
اجین کی تکیہ مسجد کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پارکنگ کے نام پر اس تاریخی مسجد کو راتوں رات مکمل طور پر شہید کر دیا گیا۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ اس معاملے میں وہاں کے مجاور کو بھی اپنے ساتھ ملا لیا گیا تھا۔انہوں نے کہا کہ اسی طرح متعدد وقف جائیدادوں کو نقصان پہنچنے کے پیچھے بعض فقیروں، سجادہ نشینوں اور تکیہ داروں کا کردار بھی رہا ہے۔انہوں نے کہا کہ ماضی میں ایسی قانونی صورتیں پیدا ہوئیں جن کے نتیجے میں وقف جائیدادوں کے نگراں رہنے والے بعض تکیہ دار خود کو ان جائیدادوں کا مالک سمجھنے لگے اور ان کی خرید و فروخت شروع کر دی۔جن جائیدادوں کی قیمت کبھی کوڑیوں کے برابر تھی، آج وہی جائیدادیں کروڑوں اور کھربوں روپے کی ہو چکی ہیں۔ ایسے حالات میں ان بیش قیمت املاک کی حفاظت کے لیے خصوصی چوکسی ضروری ہے۔
ہر وقف جائیداد پر شناختی بورڈ نصب کیے جائیں
حاجی ہارون صاحب نے جمعیۃ علماء ہند کے تمام کارکنان اور ذمہ داران سے اپیل کی کہ وہ اپنے اپنے علاقوں میں وقف جائیدادوں کی نگرانی کریں۔انہوں نے کہا کہ ہر وقف زمین پر واضح طور پر ایک بورڈ نصب کیا جانا چاہیے، جس پر تحریر ہو کہ یہ وقف بورڈ کی زمین ہے، تاکہ اس کی شناخت محفوظ رہے اور کسی بھی قسم کے ناجائز قبضے یا ہیر پھیر کے امکانات کو روکا جا سکے۔
ریوینیو ریکارڈ کی باقاعدہ جانچ انتہائی ضروری
ریونیو ریکارڈ کے سلسلے میں انہوں نے شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ متعدد وقف جائیدادوں کو بڑی خاموشی کے ساتھ بیس بیس اور تیس تیس سال پہلے سرکاری زمین کے طور پر درج کر لیا گیا۔انہوں نے کہا کہ وقف جائیدادوں سے متعلق مکمل معلومات ریونیو ریکارڈ، لینڈ ریکارڈ اور تاریخی دستاویزات میں موجود ہیں۔ اس کے باوجود کئی معاملات میں وقف گزٹ اور پرانے عدالتی فیصلوں کو بھی تسلیم نہیں کیا جا رہا ہے۔انہوں نے کہا کہ جس طرح ہم اپنی ذاتی زمینوں کے خسرے اور دیگر محکمہ مال کے دستاویزات وقتاً فوقتاً حاصل کرتے رہتے ہیں، اسی طرح ہر وقف جائیداد کا ریونیو ریکارڈ بھی باقاعدگی سے حاصل کرکے محفوظ رکھنا چاہیے۔
دھار کی کمال مولا مسجد اور تاریخی مساجد کا مسئلہ
دھار کی تاریخی کمال مولا مسجد کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے سوال اٹھایا کہ جب کوئی مسجد محکمہ آثار قدیمہ کے تحفظ میں ہے اور اسی بنیاد پر وہاں مسلمانوں کو نماز ادا کرنے سے روکا جاتا ہے تو پھر اسی مقام پر پوجا کی اجازت کس بنیاد پر دی جاتی ہے؟
انہوں نے کہا کہ ملک بھر میں ایسی سیکڑوں مساجد موجود ہیں جہاں مسلمانوں کو نماز ادا کرنے کی اجازت نہیں دی جا رہی ہے اور متعدد تاریخی مساجد ویران پڑی ہوئی ہیں۔انہوں نے مطالبہ کیا کہ کم از کم ان مساجد میں نماز ادا کرنے کی اجازت دی جائے جو متنازع نہیں ہیں لیکن آثار قدیمہ کے نام پر مسلمانوں سے لے لی گئی ہیں۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ کئی مساجد میں مندر بنا دیے جانے کے معاملات سامنے آتے ہیں۔ ایسے مقامات کی تاریخی دستاویزات اور محکمہ مال کے ریکارڈ کا غیر جانب دارانہ سروے کرایا جانا چاہیے اور جن املاک کے مسجد ہونے کی تصدیق ہو، انہیں متعلقہ مسلم اداروں کے سپرد کیا جائے۔اسی طرح محکمہ آثار قدیمہ کے زیر انتظام موجود تاریخی مساجد کو بھی متعلقہ مسلم اداروں کے سپرد کرنے کا مطالبہ انہوں نے کیا۔بھوپال کی تاریخی تاج المساجد کے اطراف کی زمینوں کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ وہاں کی بعض زمینوں کو سرکاری ریکارڈ میں سرکاری ملکیت کے طور پر درج کر لیا گیا اور بعد میں انہی زمینوں کو ہمیں لیز پر لینا پڑا۔انہوں نے کہا کہ ان زمینوں سے متعلق تاریخی دستاویزات اور ریکارڈ ہمارے پاس موجود ہیں، لیکن اس کے باوجود انہیں تسلیم کرنے کے لیے تیار نہیں ہیں۔انہوں نے اس صورتحال کے لیے اپنی جانب سے ہونے والی کوتاہی کا بھی اعتراف کرتے ہوئے کہا کہ ہم نے وقت رہتے ان املاک کا سروے اور محکمہ مال کا ریکارڈ حاصل نہیں کیا، جس کے سبب آج متعدد مسائل کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔انہوں نے کہا کہ جس طرح ہر شخص اپنی ذاتی زمینوں کے خسرے ہر دو چار سال میں حاصل کرتا ہے، اسی طرح اوقاف کی جائیدادوں کے خسرے اور دیگر دستاویزات بھی باقاعدگی سے حاصل کرکے محفوظ رکھنے چاہئیں۔انہوں نے زور دے کر کہا کہ یہ ہر مسلمان اور ہر ذمہ دار شہری کا فرض ہے کہ وہ اوقاف کی جائیدادوں کی حفاظت کے لیے اپنی ذاتی ملکیت سے بھی زیادہ طاقت اور ہمت کے ساتھ کھڑا ہو۔انہوں نے خبردار کرتے ہوئے کہا کہ اگر ہم نے آج اپنی ذمہ داری ادا نہیں کی تو آنے والی تاریخ ہمیں معاف نہیں کرے گی۔
وقف املاک کی خراب صورتحال کے سبب نئی جائیدادیں وقف کرنے کا سلسلہ متاثر
انہوں نے تشویش ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ موجودہ دور میں وقف جائیدادوں کی خراب صورتحال اور ان کے تحفظ کے سلسلے میں پیدا ہونے والے مسائل کی وجہ سے نئی جائیدادیں وقف کرنے کا سلسلہ تقریباً بند ہوتا جا رہا ہے۔انہوں نے کہا کہ پہلے لوگ بڑی عقیدت اور اعتماد کے ساتھ اپنی جائیدادیں وقف کیا کرتے تھے، لیکن آج کے حالات کو دیکھتے ہوئے لوگ نئی جائیدادیں وقف کرنے کے لیے تیار نہیں ہو رہے ہیں۔انہوں نے اسے نہایت تشویشناک صورتحال قرار دیتے ہوئے کہا کہ وقف نظام پر عوام کا اعتماد برقرار رکھنے کے لیے موجودہ املاک کا تحفظ اور شفاف نگرانی انتہائی ضروری ہے۔
مدارس کو غیر ضروری طور پر پریشان کیے جانے پر تشویش کا اظہار
اپنے خطاب میں حاجی ہارون صاحب نے مدارس سے متعلق مسائل کو بھی نمایاں طور پر اٹھایا۔انہوں نے کہا کہ موجودہ دور میں مدارس کے سامنے مسلسل نت نئے مسائل کھڑے کیے جا رہے ہیں۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ بچوں کے حقوق سے متعلق کمیشنوں کے افسران آئے دن مدارس میں پہنچ کر جانچ اور چھاپہ ماری کے نام پر انہیں پریشان کرتے ہیں۔جن کمیشنوں کی ذمہ داری غریب بچوں کی صورتحال پر توجہ دینا، بھیک مانگنے والے بچوں کی مدد کرنا، بچہ مزدوری روکنا اور بچوں کی خرید و فروخت جیسے سنگین معاملات پر کارروائی کرنا ہے، ان کی توجہ بار بار مدارس کی طرف مرکوز کی جا رہی ہے۔انہوں نے الزام عائد کیا کہ مدارس میں تعلیم حاصل کرنے والے بچوں کو وہاں سے لے جا کر بچوں کے تحفظ سے متعلق اداروں کے سپرد کر دیا جاتا ہے، جس کے سبب ان کے والدین اور سرپرست پریشان ہوتے رہتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ بچوں کے حقوق کا تحفظ یقیناً ضروری ہے، لیکن اس کے نام پر مدارس اور ان کے طلبہ کو غیر ضروری طور پر پریشان نہیں کیا جانا چاہیے۔
مدارس کی منظوری کے تعلق سے غلط فہمیاں پھیلانے کا الزام
حاجی ہارون صاحب نے کہا کہ آئے دن مدارس کی منظوری کے تعلق سے سوالات اٹھائے جاتے ہیں، جبکہ مدارس اور سنسکرت پاٹھ شالاؤں کو حق تعلیم قانون کے تحت خصوصی استثنا حاصل ہے۔
انہوں نے کہا کہ اس استثنا کا فائدہ مدارس کو نہیں دیا جا رہا ہے۔
انہوں نے واضح کیا کہ ملک بھر میں مدارس سوسائٹی رجسٹریشن ایکٹ کے تحت چلائے جاتے ہیں اور آئندہ بھی اسی نظام کے تحت چلائے جائیں گے۔انہوں نے کہا کہ مدارس پر مدرسہ بورڈ سے منظوری حاصل کرنے کے لیے دباؤ ڈالا جاتا ہے، جبکہ ان کے مطابق ایسا کوئی عمومی قانون نہیں ہے جس کے تحت ہر مدرسے کے لیے مدرسہ بورڈ سے منظوری حاصل کرنا لازمی ہو۔انہوں نے یہ بھی کہا کہ مدرسہ بورڈ کا اپنا ایک محدود دائرۂ کار اور نصاب ہوتا ہے۔
مدارس بند ہونے کی خبروں کو گمراہ کن قرار دیا
حاجی ہارون صاحب نے کہا کہ بار بار یہ غلط فہمی پھیلائی جاتی ہے کہ سیکڑوں مدارس بند کر دیے گئے ہیں، جبکہ حقیقت یہ ہے کہ کئی معاملات میں سرکاری امداد حاصل کرنے والے مدارس کی گرانٹ بند ہوتی ہے، لیکن اسے مدارس کے بند ہونے کے طور پر پیش کیا جاتا ہے۔انہوں نے کہا کہ مدارس کے تعلق سے مسلسل افواہیں اور گمراہ کن خبریں پھیلائی جا رہی ہیں، جس سے معاشرے میں غلط پیغام جاتا ہے۔انہوں نے کہا کہ جمعیۃ علماء ہند ہمیشہ سے مدارس کے سرکاری گرانٹ لینے کی مخالفت کرتی رہی ہے اور آئندہ بھی اس پالیسی کی مخالفت جاری رکھے گی۔
اوقاف کی حفاظت کے لیے ہر ذمہ دار کو میدان میں آنا ہوگا
اپنے خطاب کے اختتام پر حاجی محمد ہارون صاحب نے جمعیۃ علماء ہند کے تمام عہدیداران، ذمہ داران اور کارکنان سے پُردرد اپیل کرتے ہوئے کہا کہ اوقاف کی جائیدادیں ہماری قومی امانت ہیں اور ان کی حفاظت کرنا ہم سب کی ذمہ داری ہے۔
انہوں نے کہا کہ جمعیۃ علماء ہند کے ایک ایک ذمہ دار کو چاہیے کہ وہ اوقاف کی جائیدادوں کی حفاظت کے لیے کمر بستہ ہو جائے۔ہر علاقے میں وقف املاک کی دستاویزات، محکمہ مال کے ریکارڈ، عدالتی مقدمات اور ان کی موجودہ صورتحال کی باقاعدہ نگرانی کی جائے۔انہوں نے کہا کہ اگر آج ہم ان بیش قیمت جائیدادوں کی حفاظت کے لیے پوری طاقت، ہمت اور ذمہ داری کے ساتھ کھڑے نہیں ہوئے تو آنے والی نسلوں کے سامنے ہمیں جواب دینا پڑے گا۔









