نئی دہلی :05 ؍نومبر(پریس ریلیز)مشہور مفکر و دانش ور پدم شری پروفیسر اختر الواسع نے اپنے ایک بیان میں روز بروز نئی نئی مسجدوں کو جو کہ برسوں پرانی ہیں اور جن میں باقاعدہ نماز ہوتی رہی ہے، ان کے خلاف سرکار کے رویے پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔ انھوں نے کہا کہ کچھ مسجدوں کوپرانے مندروں کو منہدم کرنے کے نام پر اجاڑنے کی کوشش کی جا رہی ہے تو کچھ پر راستوں کی توسیع اور علاقوں کے تحفظ کے لیے ضروری قرار دے کر منہدم کرنے کی سرکاری محکموں کی طرف سے کوششیں ہو رہی ہیں۔
پروفیسر واسع نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ان میں سے اکثر مساجد کا اوقاف سے باقاعدہ تعلق ہے اور سارے کاغذات موجود ہیں لیکن بغیر کسی کاغذات کی جانچ پڑتال کیے بغیر سرکاری محکمے من مانی کر رہے ہیں۔
پروفیسر واسع نے کہا کہ اس سلسلے میں سب سے اہم واقعہ ریس کورس روڈ کی مسجد کا ہے، جس کا پہلے بغیر کسی نوٹس کے بجلی پانی بند کیا گیا اور اب اس کو منہدم کرنے کے لیے خالی کیے جانے کا نوٹس بھی دے دیا گیا ہے۔نیز انھوں نے اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ملّی جماعتوں اور ملت کے ذمہ داروں نے اس کا سخت نوٹس لیا ہے اور مرکزی وزیر اقلیتی امور شری کرن رجیجو سے ملاقات بھی کی ہے۔
پروفیسر واسع نے مزید کہا کہ یہ مسجد چوں کہ وزیرِ اعظم کی رہائش گاہ کے قریب ہے اور اس کے پختہ ثبوت موجود ہیں کہ یہ وقف کی زمین پر ہے، اس لیے ہم وزیرِ اعظم شری نریندر مودی سے بھی اپیل کرتے ہیں کہ وہ سرکاری افسران اور اس کے لیے دیگر ذمہ داروں پر سخت تادیبی کارروائی کریں اور اس مسجد کو منہدم نہ ہونے دیںکیوں کہ اگر ایسا کوئی عمل ہوتا ہے تو اس سے ملک کی بد نامی ہوتی ہے اور اس کے سیکولر جمہوری کردار پر حرف آتا ہے۔