نئی دہلی 28اکتوبر:’’دینک بھاسکر نے الٰہ آباد میڈیکل ایسو سی ایشن کے بلڈ بینک پر ایک اسٹنگ آپریشن کیا ہے۔ اسٹنگ میں سامنے آیا ہے کہ الٰہ آباد میڈیکل ایسو سی ایشن بلڈ بینک کے آس پاس کوچنگ سنٹرس کا ہب ہے۔ یہاں بہت بڑی تعداد میں طلبا پڑھائی کو جاری رکھنے کے لیے اپنا خون فروخت کر رہے ہیں۔ اس سے زیادہ شرم کی بات مزید کچھ نہیں ہو سکتی۔ ایسی حکومت کا کیا فائدہ جو بچوں کے لیے تعلیم کا انتظام نہ کر پائے، انھیں رہنے کے لیے ہاسٹل نہ دے پائے۔‘‘ یہ بیان آج ایک پریس کانفرنس میں اتر پردیش کانگریس انچارج ایڈووکیٹ راجندر پال گوتم نے دیا۔ پریس کانفرنس میں ان کے ساتھ کانگریس کے قومی میڈیا کوآرڈینیٹر ابھے دوبے بھی موجود تھے۔ دونوں نے ہی مرکز اور اتر پردیش میں برسراقتدار بی جے پی کو تنقید کا نشانہ بنایا اور طلبا کے ساتھ ہو رہے سلوک کے لیے انھیں ’آدم خور‘ تک کہہ ڈالا۔
ایڈووکیٹ راجندر پال گوتم نے ’دینک بھاسکر‘ کے اسٹنگ آپریشن کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ ’’رپورٹر کو پتہ چلا کہ الٰہ آباد میڈیکل ایسو سی ایشن کے بلڈ بینک کے پاس دلالوں کا بول بالا ہے۔ ان دلالوں کو پتہ ہوتا ہے کہ ہاسٹل میں رہنے والے کون سے طالب علم معاشی طور پر بدحال ہیں اور کن طلبا کو پیسوں کی ضرورت ہے۔‘‘وہ آگے کہتے ہیں کہ ’’یہ دلال طلبا کا فرضی ڈاکیومنٹیشن کراتے ہیں اور پھر ان کا خون فروخت کیا جاتا ہے۔ مجبور طالب علم یہ سب صرف تعلیم جاری رکھنے اور ہاسٹل کی فیس بھرنے کے لیے کرتے ہیں۔‘‘ انھوں نے یہ بھی بتایا کہ اسٹنگ آپریشن میں معلوم ہوا کہ طالب علم ایک ماہ میں 4-4 مرتبہ خون فروخت کر رہے ہیں اور انھیں ایک یونٹ خون کے لیے 4 سے 5 ہزار روپے ملتے ہیں۔ اس معاملہ میں اتر پردیش کی بی جے پی حکومت پر حملہ کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ ’’حکومت ڈینگیں تو بڑی بڑی ہانکتی ہے، لیکن حقیقت سب کے سامنے ہے۔‘‘









