لکھنؤ، 28 اکتوبر: (پریس ریلیز) خواجہ معین الدین چشتی لینگویج یونیورسٹی کے شعبہ ہائے فارسی، اردو اور عربی کے مشترکہ اشتراک سے وائس چانسلر پروفیسر اجے تنیجا کی سرپرستی میں ابوالکلام آزاد اکیڈمک بلڈنگ کے ہائبرڈ ہال میں ’’فارسی زبان میں ترجمے کا فن اور تکنیک‘‘ کے موضوع پر ایک توسیعی خطبے کا انعقاد کیا گیا۔ اس موقع پر رام پور رضا لائبریری کے سابق ڈائریکٹر اور شعبۂ فارسی کے سابق صدر پروفیسر حسن عباس نے موضوع کے مختلف علمی، لسانی اور تہذیبی پہلوؤں پر اظہارِ خیال کیا۔پروگرام کے آغاز میں شعبۂ اردو کے صدر اور ڈین اکیڈمک پروفیسر ثوبان سعید نے مہمان مقرر پروفیسر حسن عباس کا استقبال کرتے ہوئے کہا کہ یہ اساتذہ اور طلبہ کے لیے خوش بختی کی بات ہے کہ انہیں اس اہم علمی و ادبی موضوع پر پروفیسر حسن عباس جیسے ممتاز علمی شخصیت کا توسیعی خطبہ سننے کا موقع مل رہا ہے۔ انھوں نے کہا کہ پروفیسر حسن عباس کے علمی و تحقیقی تجربات سے طلبہ اور محققین کو ترجمے کے فن، اس کی تکنیک، مختلف جہات و ابعاد اور اس سے وابستہ چیلنجز کو سمجھنے میں مدد ملے گی۔اپنے توسیعی خطبے میں پروفیسر حسن عباس نے فارسی زبان میں ترجمے کے فن اور تکنیک پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ ایک کامیاب مترجم کے لیے صرف دونوں زبانوں پر عبور حاصل کرنا کافی نہیںبلکہ اسے اصل متن کی تہذیبی، ثقافتی، سماجی اور تاریخی روایت سے بھی گہری واقفیت ہونی چاہیے۔ اس کے ساتھ علمی و ادبی اصطلاحات، محاورات، استعارات اور اسلوبیاتی خصوصیات کا ادراک بھی ناگزیر ہےکیونکہ ترجمے کا مقصد محض الفاظ کو ایک زبان سے دوسری زبان میں منتقل کرنا نہیںبلکہ اصل متن کے مفہوم، اس کی معنوی تہوں، اسلوب اور روح کو دوسری زبان میں حتی الامکان برقرار رکھنا ہے۔پروفیسر حسن عباس نے ہندوستان کے قدیم مذہبی، تہذیبی، ثقافتی، علمی اور ادبی متون کے فارسی زبان میں تراجم کی روشن تاریخ کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ فیروز شاہ تغلق کے عہد سے لے کر مغل حکمرانوں کے دور تک اس سلسلے میں نمایاں کام انجام دیا گیا۔ فارسی زبان میں ہندوستانی علوم، مذہبی روایات، فلسفے اور ادبی سرمایے کی منتقلی نے مختلف تہذیبوں کے درمیان فکری و علمی تبادلے کی راہیں ہموار کیں۔ انہوں نے اس امر کی جانب بھی توجہ دلائی کہ ہندوستانی مذہبی و تہذیبی روایات اور علمی و ادبی ورثے کے متعدد پہلو فارسی تراجم کے ذریعے وسیع تر علمی دنیا تک پہنچے۔
اس طرح فارسی زبان نے ہندوستان کی مختلف تہذیبی روایتوں کے تعارف اور ان کے مابین مکالمے کے فروغ میں اہم کردار ادا کیا۔اس موقع پر شعبۂ فارسی کے انچارج اور کوارڈینیٹرڈاکٹر عارف عباس نے اپنے تأثرات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پروفیسر حسن عباس نے اس اہم موضوع پر نہ صرف سیر حاصل مکالمہ قائم کیا بلکہ اس تعلق سے نئے چیلنجز کے بارے میں بھی گفتگو کی ۔اس پروگرام کی نظامت ڈاکٹر انصاری عبد الرحمٰن اور کلمات تشکر ڈاکٹر اخلاق احمد نے ادا کیا ۔اس موقع پر ڈاکٹر محمد اکمل،ڈاکٹر مرتضیٰ اطہر،ڈاکٹر مدثر ،ڈاکٹر عائشہ شہناز،ڈاکٹر مزمل کریم ،راج کماراور ڈاکٹر ظفرالنقی کے علاوہ فارسی ،اردو اور عربی کے دیگر اساتذہ اور طلبہ موجود تھے۔









