نئی دہلی 28اکتوبر:دیوالی سے چند روز قبل مرکزی حکومت نے اپنے ملازمین کو بڑی خوشخبری سنائی ہے۔ حکومت ہند نے آج کابینہ کی میٹنگ میں ڈی اے یعنی مہنگائی بھتہ میں اضافہ کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔ اس کے لیے حکومت نے 10,016 کروڑ روپے منظور کیے ہیں۔ مرکزی حکومت کے ملازمین کئی دنوں سے اس خبر کا بے صبری سے انتظار کر رہے تھے۔آج یعنی 28 اکتوبر کو ہونے والی مرکزی کابینہ کی میٹنگ میں ملازمین کے مہنگائی بھتہ میں 3 فیصد اضافہ کے مطالبے کو منظوری دے دی گئی ہے۔ اس کے بعد ملازمین کا مہنگائی بھتہ 60 فیصد سے بڑھ کر 63 فیصد ہو گیا ہے۔ ڈی اے یعنی مہنگائی بھتہ وہ رقم ہے جو سرکاری ملازمین کو ان کی تنخواہ کے علاوہ الگ سے دی جاتی ہے۔ بڑھتی ہوئی مہنگائی کو پیش نظر رکھتے ہوئے ہر سال اس بھتہ پر نظرثانی کی جاتی ہے۔
تنخواہ میں کتنا اضافہ ہوگا؟
فرض کیجیے کہ کسی شخص کی بنیادی تنخواہ 25,000 روپے ہے تو 63 فیصد کے حساب سے اب اس کا مہنگائی بھتہ 15,750 روپے ہوگا۔ یعنی ملازم کی مجموعی تنخواہ 40,750 روپے ہو جائے گی۔ توجہ طلب بات یہ ہے کہ ڈی اے یعنی مہنگائی بھتہ میں سال میں 2 مرتبہ اضافہ کیا جاتا ہے۔ مرکزی حکومت کی جانب سے جنوری اور جولائی میں مہنگائی بھتہ میں اضافے کی تجویز پیش کی جاتی ہے۔ جنوری میں پیش کی جانے والی تجویز پر مارچ یا اپریل میں ہونے والی کابینہ کی میٹنگ میں فیصلہ کیا جاتا ہے، جبکہ جولائی میں پیش کی جانے والی تجویز پر ستمبر یا اکتوبر میں ہونے والی میٹنگ میں فیصلہ کیا جاتا ہے۔ حکومت ہمیشہ ایک طے شدہ فارمولے کی بنیاد پر ڈی اے کی شرح میں تبدیلی کرتی ہے۔ اسی لیے ہر مرتبہ ڈی اے میں یکساں اضافہ نہیں ہوتا۔ واضح رہے کہ اس سے قبل بھی مودی حکومت کے دور میں 2014 سے اب تک کئی مرتبہ مہنگائی بھتہ میں اضافہ کیا جا چکا ہے۔ اس سے قبل حکومت نے 2014 میں مہنگائی بھتہ میں 7 فیصد اضافہ کیا تھا۔ اس کے بعد مسلسل 3 سالوں تک مہنگائی بھتہ میں 6 فیصد کا اضافہ کیا گیا۔ بعد ازاں کورونا کے دور میں مرکزی حکومت نے مہنگائی بھتہ میں اضافے کو روک دیا تھا۔ پھر آگے چل کر یہ رقم قسطوں کی شکل میں ادا کی گئی۔









