لکھنو24اکتوبر: میرٹھ کے مشہور ’نیلا ڈرم قتل‘ کی قصوروار مسکان رستوگی اور اپنے شوہر کے قتل کو سانپ کے ڈسنے کی شکل دینے کے معاملے میں قصوروار رویتا کو پھانسی کی سزا سنائے جانے کے بعد دونوں معاملے ایک بار پھر سرخیوں میں ہیں۔ ’آل انڈیا ہندو مہاسبھا‘ کی آگرہ ضلع صدر میرا راٹھور نے دونوں خواتین کو پھانسی دینے کی خواہش ظاہر کی ہے۔ انہوں نے متھرا کے ضلع مجسٹریٹ کو ایک عرضی دے کر جلاد کی ذمہ داری نبھانے کی اجازت مانگی ہے۔ میرا راٹھور کا کہنا ہے کہ اگر انتظامیہ حکم دیتی ہے تو وہ یہ کام مفت کریں گی۔ ساتھ ہی انہوں نے پھانسی سے قبل دونوں خواتین کو گنگا جل سے پاک کرنے کی بات بھی کہی ہے۔ میرٹھ کے برہمپوری علاقہ میں سوربھ راجپوت قتل معاملہ ملک بھر میں سرخیوں میں تھا۔ سوربھ کی اہلیہ مسکان رستوگی اور اس کے ساتھی ساحل شکلا کو اس معاملے میں قصورار ٹھہرایا گیا۔ عدالت نے 14 اکتوبر 2026 کو دونوں کو موت کی سزا سنائی تھی۔ اس معاملے میں سوربھ کی لاش کو نیلے ڈرم میں چھپانے کا معاملہ سامنے آنے کے بعد لوگوں میں کافی غم و غصہ تھا۔
دوسرے معاملے میں رویتا اور اس کے ساتھی امردیپ کو شوہر امت کشیپ کے قتل کا قصوروار ٹھہرایا گیا ہے۔ استغاثہ کے مطابق قتل کے بعد واقعہ کو سانپ کے کاٹنے سے ہوئی موت دکھانے کی کوشش کی گئی تھی۔ یہ معاملہ 17 اپریل 2025 کی رات کا ہے، جب رویتا نے اپنے عاشق امر دیپ کے ساتھ مل کر اپنے شوہر امت کشیپ کا گلا گھونٹ کر قتل کر دیا تھا۔
قتل کے بعد دونوں نے بستر پر ایک سانپ رکھ دیا، تاکہ امت کی موت سانپ کے ڈسنے سے ہونے کا تاثر دیا جا سکے۔ تاہم، پوسٹ مارٹم رپورٹ میں انکشاف ہوا کہ امت کی موت گلا گھونٹنے کی وجہ سے ہوئی تھی۔ عدالت نے 16 اکتوبر 2026 کو دونوں کو موت کی سزا سنائی تھی۔