ممبئی22اکتوبر: مرکز کی نئی ایتھنول خرید پالیسی نے مہاراشٹر کی شوگر ملوں اور ڈسٹلریوں میں تشویش پیدا کر دی ہے۔ تیل مارکیٹنگ کمپنیوں (او ایم سیز) کے 16 اکتوبر کو جاری کردہ ٹینڈر میں 2026-27 کے سپلائی سال کے لیے گنے کے رس، شکر کے شربت اور بی ہیوی ملیسس (شیرے) سے بنے ایتھنول کی پیشکشیں شامل نہیں کی گئیں۔ سی ہیوی شیرے سے بنے ایتھنول کی خرید جاری رہ سکتی ہے۔ یہ مخصوص خام مال سے بنے ایتھنول کی سرکاری خرید پر پابندی ہے، پیداوار پر مکمل پابندی نہیں۔ ٹینڈر میں تقریباً 1100 کروڑ لیٹر ایتھنول خریدنے کا تخمینہ ہے۔ حکومت کا کہنا ہے کہ یہ قدم ملکی منڈی میں شکر کی دستیابی برقرار رکھنے کے لیے اٹھایا گیا ہے۔ تاہم صنعت سے وابستہ افراد کا کہنا ہے کہ ایتھنول کی خرید کے لیے خام مال کے راستے محدود ہونے سے کئی ڈسٹلریوں کو اپنی صلاحیت پوری طرح استعمال کرنے میں دشواری ہو سکتی ہے۔ ان کے مطابق، موجودہ قیمتوں پر صرف سی ہیوی شیرے سے ایتھنول بنانا بعض ملوں کے لیے معاشی طور پر قابلِ عمل نہیں۔ مہاراشٹر ریاستی کوآپریٹو شوگر فیکٹریز فیڈریشن کے اعداد کے مطابق، ریاست کی شوگر ملوں میں ایتھنول بنانے کی نصب شدہ صلاحیت تقریباً 3750 ملین لیٹر ہے۔ 2025-26 میں ان ملوں نے تقریباً 1250 ملین لیٹر ایتھنول فراہم کیا، جو مجموعی صلاحیت کا تقریباً 30 فیصد بنتا ہے۔ صنعت کے نمائندوں کے مطابق، ریاست میں ایتھنول کے شعبے میں تقریباً 40000 کروڑ روپے کی سرمایہ کاری کی گئی ہے۔ ایک کوآپریٹو شوگر مل کے سربراہ نے بتایا کہ 60 کلو لیٹر یومیہ صلاحیت کی اناج پر مبنی ڈسٹلری لگانے پر 120 سے 135 کروڑ روپے خرچ ہو سکتے ہیں۔ 30 کلو لیٹر یومیہ صلاحیت کے چھوٹے پلانٹ پر بھی 50 سے 60 کروڑ روپے کی سرمایہ کاری درکار ہوتی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ پالیسی میں تبدیلی کے بعد ان منصوبوں کی آمدنی اور قرض کی واپسی کے حساب پر نظرثانی کرنا پڑ سکتی ہے۔









