نئی دہلی 9اکتوبر: دہلی میں 10 اکتوبر کو ہونے والے مظاہرے سے قبل میٹرو اسٹیشن بند کرنے اور دہلی آنے والی ٹرینوں کو منسوخ کرنے کی تجویز پر سپریم کورٹ میں آج سماعت ہوئی۔ اس دوران سپریم کورٹ نے مرکزی حکومت سے کہا کہ 10 اکتوبر کو ہونے والے احتجاجی مظاہروں کے پیش نظر دہلی کے لیے ٹرین خدمات مکمل طور پر بند نہ کی جائیں اور دہلی میٹرو اسٹیشنوں کو بھی بند نہ کیا جائے۔ سپریم کورٹ نے مرکز سے کہا کہ خدمات کو منظم طریقے سے جاری رکھا جائے، تاکہ عام لوگوں کو کسی طرح کی پریشانی کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ سپریم کورٹ نے یہ تبصرہ بھی کیا کہ ’’مکھی مارنے کے لیے ہتھوڑے کا استعمال نہیں کرنا چاہیے۔‘‘ دراصل چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے خلاف نوجوانوں اور کچھ طلبا تنظیموں نے 10 اکتوبر کو مظاہرے کا اعلان کیا ہے۔ اس اعلان کو پیش نظر رکھتے ہوئے انڈین ریلوے نے کئی ٹرینوں کو منسوخ کرنے کا اعلان کر دیا ہے اور دہلی پولیس نے 57 میٹرو اسٹیشنوں کے دروازے بند کرنے کی تجویز پیش کی ہے۔ جمعہ کو سی پی آئی (ایم) کے جنرل سکریٹری ایم اے بے بی کی جانب سے سینئر وکیل کپل سبل نے سپریم کورٹ میں یہ معاملہ اٹھایا۔
چیف جسٹس سوریہ کانت نے سماعت کے دوران تناسب کے اصول پر زور دیا اور کہا کہ کسی مسئلے کو روکنے کے لیے اٹھائے جانے والے اقدامات ضرورت کے مطابق ہونے چاہئیں۔ انہوں نے کہا کہ ’’ہر شہری کے لیے ہم جس ایک انتہائی اہم اصول پر عمل کرتے ہیں، وہ تناسب کا اصول ہے۔ آپ کو کچھ چیزوں کو روکنا ہے۔ انہیں روکنے کے لیے اتنے ہی اقدامات کریں، جتنے ضروری ہوں۔ لیکن اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ مکھی مارنے کے لیے ہتھوڑے کا استعمال کیا جائے۔ اس اصول کو ذہن میں رکھنا ہوگا۔‘‘ سالیسٹر جنرل تشار مہتا نے کہا کہ عدالت کے اس تبصرے کو اس طرح پیش نہیں کیا جانا چاہیے کہ چیف جسٹس نے حکومت پر مکھی مارنے کے لیے ہتھوڑے کا استعمال کرنے کا الزام لگایا ہے۔ انہوں نے کہا کہ عدالت نے یہ بات مثال کے طور پر کہی ہے۔