اسلام آباد3اکتوبر:پاکستان سعودی عرب میں اپنی فوجی موجودگی میں بڑے پیمانے پر اضافے کی تیاری کر رہا ہے۔ یمن کے حوثیوں کے ساتھ بڑھتی ہوئی کشیدگی کے درمیان سعودی عرب میں 25 ہزار تک پاکستانی فوجی تعینات کیے جانے کا امکان زیرِ غور ہے۔ نامہ نگار سے گفتگو کرتے ہوئے اعلیٰ سیکورٹی ذرائع نے یہ انکشاف کیا۔ مجوزہ تعیناتی پاکستان، سعودی عرب اور ترکی کے درمیان مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کے تحت بڑھتے ہوئے دفاعی تعاون کا حصہ ہے۔ یہ پیش رفت ایسے وقت میں ہو رہی ہے جب ریاض کو حوثیوں کی جانب سے بڑھتے ہوئے خطرے کا سامنا ہے۔ذرائع کے مطابق، 15 ہزار سے زائد پاکستانی فوجی پہلے ہی سعودی عرب میں موجود ہیں، جبکہ اسلام آباد اضافی فوجی اہلکاروں اور دفاعی سازوسامان کی فراہمی کے ذریعے مملکت کے دفاع کو مزید مضبوط بنانے کی تیاری کر رہا ہے۔ سیکورٹی ذرائع نے بتایا کہ دونوں ممالک کے درمیان دفاعی تعاون مزید گہرا ہونے کے ساتھ پاکستان سعودی عرب میں مجموعی طور پر 25 ہزار تک فوجی تعینات کر سکتا ہے۔ ذرائع کے مطابق پاکستان کی فوجی معاونت صرف فوجیوں کی تعیناتی تک محدود نہیں ہوگی، بلکہ سعودی عرب کی دفاعی صلاحیت بڑھانے کے لیے ایئر ڈیفنس سسٹمز، راکٹ اور ڈرونز بھی فراہم کیے جا رہے ہیں۔ یہ تیاریاں ایسے وقت میں کی جا رہی ہیں جب سعودی عرب کو حوثیوں کے بڑھتے ہوئے حملوں کا سامنا ہے۔ ریاض نے حوثی گروپ پر اسلام کے دو مقدس ترین شہروں کو نشانہ بنانے کا الزام عائد کیا ہے، جس کے بعد مملکت کی سیکورٹی صورتحال سے متعلق خدشات مزید بڑھ گئے ہیں۔