نئی دہلی 3اکتوبر؛ موسم کے حوالے سے ایک ایسی خبر سامنے آ رہی ہے جس نے دنیا بھر کے ماہرینِ موسمیات کی نیندیں اڑا دی ہیں۔ گزشتہ کچھ دنوں سے سمندر کے اوپر اپنی طاقت جمع کر رہا سمندری طوفان ’نولو‘ اب ایک انتہائی خطرناک اور تباہ کن مرحلے میں پہنچ چکا ہے۔ ہوا کی شدید رفتار اور بادلوں کے سیاہ گھیرے کو دیکھ کر اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ آنے والے 48 گھنٹے انتہائی نازک ہونے والے ہیں۔ سائنس دانوں کا ماننا ہے کہ یہ طوفان جلد ہی 241 کلومیٹر فی گھنٹہ کی ہلا دینے والی رفتار اختیار کر سکتا ہے۔ اتنی تیز ہواؤں کا مطلب ہے بھیانک تباہی! کمزور مکانات، بجلی کے کھمبے اور ٹین کی چھتیں تاش کے پتوں کی طرح ہوا میں اڑ سکتی ہیں۔
دراصل ’نولو‘ بحرالکاہل کے اوپر فعال ہے اور اس ہفتے کے آخر میں یہ ’انٹرنیشنل ڈیٹ لائن‘ کو عبور کرنے والا ہے۔ موسمیات کی زبان میں کہیں تو یہ طوفان سینٹرل پیسیفک بیسن کو چھوڑ کر ویسٹرن پیسیفک بیسن میں داخل ہونے والا ہے۔ جیسے ہی یہ جغرافیائی سرحد عبور کرے گا، نقشے پر اس کی درجہ بندی بھی تبدیل ہو جائے گی اور یہ ’ہریکین‘ یا ’ٹراپیکل اسٹورم‘ سے براہِ راست ’ٹائیفون‘ یا ہواؤں کی رفتار بڑھنے کی صورت میں ’سپر ٹائیفون‘ کے زمرے میں شامل ہو جائے گا۔ جاپان میٹرولوجیکل ایجنسی اور جوائنٹ ٹائیفون وارننگ سینٹر جیسی بڑی ایجنسیاں اس کی ہر نقل و حرکت پر گہری نظر رکھے ہوئی ہیں۔محکمۂ موسمیات کی پیش گوئیوں اور طوفان کے راستے کو دیکھیں تو ’نولو‘ جیسے تباہ کن سمندری طوفان بحرالکاہل کے جزائر کے ساتھ ساتھ مشرقی اور جنوب مشرقی ایشیا کے ممالک کے لیے بھی بڑی مصیبت پیدا کر سکتے ہیں۔