پٹنہ:03؍اکتوبر(پریس ریلیز):مدرسہ اسلامیہ شکرپور بھروارہ ،ضلع دربھنگہ کے ناظم قاری شبیر احمد قاسمی کا ۲؍اکتو بر ۲۰۲۶ء کو انتقال ہوگیا۔ ان کے انتقال کی خبر پھیلتے ہی علمی حلقہ سوگوار ہوگیا۔ قاری صاحب ذہین و فطین تھے ، اردو زبان وادب پر قدرت اور تقریر وتحریر دونوں میں یکساں مہارت رکھتے تھے۔ خلاصہ یہ کہ وہ گوناگوں صفات کے حامل تھے۔ ان کی وفات ملت کے لئے عظیم سانحہ اور بڑا خسارہ ہے ۔ مذکورہ خیالات کا اظہار مولانا ڈاکٹر ابوالکلام قاسمی شمسی نے پریس ریلیز میں کیا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ قاری صاحب زمانۂ طالب علمی ہی سے اردو زبان وادب کا شوق رکھتے تھے۔ اور اس فن کا مطالعہ ان کا محبوب مشغلہ تھا، اردو زبان وادب کے خصوصی مطالعہ نے ان کے اندر زبان و ادب کی گہری بصیرت پیدا کردی ، جس کا اظہار ان کی گفتگو اور ان کی تقریر سے بھی ہوتا تھا۔ وہ شعر وشاعری سے بھی دلچسپی رکھتے تھے ، اشعار بھی کہتے تھے اور ’’حافظ‘‘ تخلص کرتے تھے۔ وہ بالخصوص اپنی شاعری کی وجہ سے حلقۂ احباب میں کافی مقبول رہے۔ اللہ تعالیٰ نے انہیں ذہانت سے نوازا تھا، ان کا حافظہ قوی تھا ،کتابوں کا مطالعہ ان کا محبوب مشغلہ تھا، جس کی وجہ سے ان کی گفتگو ادبی اور علمی ہوا کرتی تھی۔انہوں نے مزید کہا کہ مدرسہ اسلامیہ شکرپور ایک مکتب تھا ، قاری شبیر احمد قاسمی نے اس کو ترقی دے کر اعلیٰ مقام پر پہنچایا، انہوں نے مدرسہ کی ظاہری تعمیر کے ساتھ علمی وتعلیمی معیار کو بہتر بنانے پر خصوصی توجہ دی، جس کی وجہ سےاس مدرسہ نے علاقے میں ایک نمایاں دینی تعلیمی ادارے کی حیثیت حاصل کی، جس کا فیض جاری ہوا اور لاکھوں طلبہ نے اس سے فیض حاصل کیا ۔یہ قاری صاحب مرحوم کا بڑا کارنامہ ہے۔موصوف اساتذہ اور طلبہ کے درمیان یکساں مقبول رہے، وہ شفیق، علمی وقار، ملنسار ، اور حسن اخلاق کے حامل تھے۔مولانا ڈاکٹر ابوالکلام قاسمی شمسی نے قاری شبیر احمد قاسمی کے انتقال کو دینی، علمی اور ادبی حلقہ کے لئے بڑا نقصان قرار دیا۔اللہ تعالیٰ ان کی مغفرت کرے ،لواحقین کو صبر جمیل اور ملت اسلامیہ کو نعم البدل عطا فرمائے ۔









