بھوپال، 10 ستمبر: مدھیہ پردیش اسمبلی سے یکساں سول کوڈ (یو سی سی) بل منظور کیے جانے کے خلاف جمعرات کے روز دارالحکومت بھوپال میں وکلاء کے ایک وفد اور مسلم علمائے کرام کی جانب سے ریاست کے گورنر کے توسط سے صدر جمہوریہ کے نام ایک احتجاجی میمورنڈم پیش کیا گیا ہے، جس میں مذکورہ بل کے خلاف شدید مخالفت درج کرائی گئی ہے۔ وکلاء اور دانشوران کا دو ٹوک مؤقف ہے کہ یہ یو سی سی آئینِ ہند کی بنیادی روح کے سراسر خلاف ہے، کیونکہ مذہبی و عائلی معاملات کی انجام دہی کے لیے پہلے سے ہی پرسنل لا موجود اور نافذ العمل ہے، لہٰذا اس ضمن میں کسی بھی نئے قانون کو وضع کرنے کی کوئی ضرورت نہیں تھی۔ انہوں نے واضح کیا کہ اس یو سی سی کے نفاذ سے مسلمانوں کے خالص مذہبی امور میں کھلی مداخلت کا راستہ ہموار ہوگا جو کہ مکمل طور پر غیر آئینی اقدام ہے۔ ان تمام خدشات اور دلائل کے پیشِ نظر دانشور وکلاء اور مسلم مذہبی رہنماؤں نے صدر جمہوریہ سے پرزور مطالبہ کیا ہے کہ وہ مذکورہ یو سی سی بل پر اپنے دستخط ہرگز ثبت نہ کریں اور نہ ہی اسے کسی صورت نافذ العمل ہونے دیا جائے۔