نئی دہلی :03ستمبر: (پریس ریلیز) مشہور مفکر و دانشور پدم شری پروفیسر اختر الواسع نے عدالت کے اس فیصلے پر دکھ کا اظہار کیا ہے جس میںحجاب کولڑکیوں کے اسکول یونی فارم کا حصہ بنائے جانے کے خلاف فیصلہ دیا گیا ہے۔ پروفیسر اختر الواسع نے کہا ہے کہ پہلی بات تو یہ کہ لڑکیوں کے لیے درس گاہوں میں یونی فارم ثانوی حیثیت رکھتاہے، اصل معاملہ اس کا ہے کہ ہماری بچیاں زیادہ سے زیادہ زیورِ تعلیم سے آراستہ ہوں۔ دوسرے یہ کہ اس کا فیصلہ عدالتیں نہیں بلکہ مذہبی قیادتیں کریں گی کہ لبا س میں کس چیز کو اولیت اور فضیلت حاصل ہے۔ پروفیسر واسع نے مزید کہا کہ سر کو ڈھکنا لڑکیوں کے لیے لازمی امر ہےجس کی اَن دیکھی نہیں کی جا سکتی اور جس سے گریز ناممکن ہے۔ انھوں نے کہا کہ لگتا ہے کچھ لوگ مسلمان بچیوں کو تعلیم سے محروم رکھنا چاہتے ہیں، اس لیے وہ اس طرح کے فیصلے کر اور کرا رہے ہیں۔ پروفیسر واسع نے سرکاروں سے گزارش کی ہے کہ وہ مسلمان بچیوں کے لیے یونی فارم کا کوئی ایسا قاعدہ نہ بنائیں جو کہ اسلام کی بنیادی تعلیمات کے منافی ہو، کیوں کہ اسلام لڑکیوں کے لیے جسم کو باقاعدہ سر سے پاؤں تک ڈھکنے کی تاکید اور تائید کرتا ہے۔ اس لیے تعلیمی اداروں میں جانے والی بچیوں کو اس رہنمائی کو اپنانا چاہیےورنہ اس کا دوسرا مطلب یہی نکالا جائے گا کہ سرکار اور اس کے ہمنوا مسلمان بچیوں کو تعلیم حاصل کرتا ہوا نہیں دیکھنا چاہتے ہیں۔









